سائنس کی تاریخ کے مشہور واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ برطانیہ کا نوجوان سائنس داں نیوٹن (وفات: 1727) اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا- اُس وقت سیب کے درخت سے ایک سیب ٹوٹ کر اس کے سر پر گرا- اِس چوٹ سے اس کے اندر سوچ کا ایک طوفان آگیا- اِس واقعے کے بعد اس نے زمین کی کشش کا نظریہ دریافت کیا:
It is one of the most famous anecdotes in the history of science. The young Isaac Newton is sitting in his garden when an apple falls on his head and, in a stroke of brilliant insight, he suddenly comes up with his theory of gravity.
کرہ ارض کے اندر کشش (gravitational pull) ایک عظیم نعمت ہے- اِس کشش کے بغیر زمین پر انسان کی آبادی اور انسانی تہذیب کا وجود ممکن نہ تھا- انسانی زندگی کی تمام سرگرمیاں اِسی زمینی کشش کی وجہ سے ممکن ہوئی ہیں- یہ کشش نہ ہو تو زمین کے اوپر ہوا، پانی، سبزہ، انسانی آبادیاں ہر چیز کا خاتمہ ہوجائے- اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ انسان اِس حقیقت کو شعوری طورپر جانے اور اِس نعمت پر خالق کا گہرا شکر ادا کرے- اللہ نے مختلف فطری نشانیوں کے ذریعے اِس کی طرف انسان کو متوجہ کیا- مثلاً اوپر کی فضا سے پانی کا نیچے آنا، وغیرہ- مگر انسان اِس پر غور نہ کرسکا، اِس لیے وہ اِس دریافت تک بھی نہیں پہنچا-
نیوٹن کے سرپر سیب کا گرنا گویا سر پر پتھر مار کر انسان کے ذہن کو بیدار کرنا تھا، تاکہ وہ فطرت کے اِس ظاہرے پر غور کرے اور زمین کی کشش کے قانون کو دریافت کرے- گویا یہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise)کا معاملہ تھا- یہ طریقہ کامیاب ہوا اور انسان اِس عظیم نعمت کو شعوری طورپر دریافت کرنے میں کامیاب ہوگیا-تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جب کہ عام حالات میں انسان ایک حقیقت کو دریافت نہ کرسکا تھا، پھر اس کے ساتھ وہ تجربہ پیش آیا جس کو شاک ٹریٹمینٹ (shock treatment) کہا جاتاہے اور پھر اس نے حقیقت کو دریافت کرلیا- اصل یہ ہے کہ ہر زحمت میں ایک رحمت ہوتی ہے، آدمی اگر اِس حقیقت کو سمجھے تو وہ کبھی مایوسی کا شکار نہ ہو-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.