Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala July 2013
Al-Risala July 2013

سوال و جواب

Urdu · 5 min read

عرض ہےکہ آپ نے ماہ نامہ الرسالہ مارچ 2013 کے شمارے کے ٹائٹل پر ایک عبارت تحریرفرمائی ہے، جو اس طرح ہے: ’’چھوٹوں کو عزت دینا اخلاص کی پہچان ہے اور بڑوں کو عزت دینا منافقت کی پہچان‘‘- میں اِس عبارت کو سمجھنے سے قاصر ہوں- آپ نے بڑوں کو عزت دینے کو منافقت سے تعبیر کیا ہے، جب کہ احادیث سے ثابت ہے کہ بڑوں کو عزت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے- ازراہِ کرم، اِس عبارت کی وضاحت فرمائیں- (فیصل احمد، کشمیر)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

الرسالہ کے ٹائٹل پر چھپنے والا یہ قول موجودہ زمانے کی نسبت سے ہے- اِس عبارت کو اگر آپ اِس اضافے کے ساتھ پڑھیں کہ موجودہ زمانے میں یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ چھوٹے (کم حیثیت کے) لوگوں کو عزت نہیں دیتے اور وہ بڑوں (زیادہ حیثیت والوں) کو عزت دیتے ہیں، تو اِس قول کا مطلب بالکل واضح ہوجائے گا- حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اخلاقیات کے مطابق، چھوٹوں کو عزت دینا اخلاص کی پہچان ہے اور بڑوں کو عزت دینا منافقت کی پہچان-

الرسالہ کے اِس قول میں ’’چھوٹوں‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو معمولی درجے سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتاہے اور ’’بڑوں‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اعلی درجے سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتاہے- مذکورہ حدیث ( لیس منامن لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنا) سے الرسالہ کے اِس قول کا کوئی تعلق نہیں- مذکورہ حدیثِ رسول دوسرے سیاق میں آئی ہے اور الرسالہ کا یہ قول دوسرے سیاق میں- دونوں کا سیاق (context) بالکل الگ الگ ہے-

میں تفسیر اَحسن البیان (حافظ صلاح الدین یوسف) پڑھ رہا تھا- سورہ النساء کی آیت86 کی تفسیر میں مفسر لکھتے ہیں کہ:’’یاد رہے کہ یہ حکم مسلمانوں کے لیے ہے، یعنی ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کو سلام کرے- لیکن اہلِ ذمّہ یعنی یہود ونصاری کو سلام کرنا ہوتو ایک تو اُن کو سلام کرنے میں پہل نہ کی جائے- دوسرے، اضافہ نہ کیا جائے بلکہ ’’وعلیکم‘‘ کے ساتھ جواب دیا جائے‘‘ ( بخاری ومسلم)-براہِ کرم، رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس کا اطلاق آج ہمارے پڑوسی مذہب کے ہندوبھائیوں پر بھی ہوگا- (غلام صابر، غازی پور، یوپی)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ تفسیر میں جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ مسئلہ درست نہیں، کیوں کہ اس میں بخاری کی مذکورہ روایت کو مطلق معنی میں لے لیا گیا ہے- اِس سلسلہ کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ وہ مطلق معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فقہا کی اصطلاح میں، ’’بیان جواز‘‘ کے معنی میں ہے-

قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ اہلِ ایمان کو ہمیشہ زیادہ بہتر انداز میں جواب دینا چاہیے- اِس معاملے میں یہود یا کسی دوسرے کا کوئی استثنا نہیں ہے- اعلی اخلاق (68:4)ایک عظیم سنتِ رسول ہے- وہ ہر حال میں اہلِ ایمان سے مطلوب ہے- اِس کے علاوہ، غیر مسلموں کے سلسلہ میں ایک خصوصی اصول وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب (9:60) کہاگیا ہے- تالیفِ قلب کے اصول کا تقاضا ہےکہ اہلِ ایمان اُس طرزِ سلوک کو اختیار کریں جس کا حکم قرآن میں اِن الفاظ میں دیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (41:34) یعنی بھلائی اوربرائی دونوں برابر نہیں،تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحیح البخاری کی مذکورہ روایت کی تشریح کے تحت صاحبِ فتح الباری نے لکھا ہے: وذہب جماعة من السلف إلى أنہ یجوز أن یقال فی الردّ علیہم ’’علیکم السلام‘‘ کما یردّ على المسلم- واحتج بعضہم بقولہ تعالى: فاصفح عنہم وقل سلام (43:89) یعنی علماءِ سلف کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ — یہ جائز ہے کہ غیر مسلموں کے سلام کے جواب میں اُسی طرح وعلیکم السلام کہاجائے جس طرح ایک مسلم کے جواب میں وعلیکم السلام کہا جاتاہے- اُن میں سے بعض نے اِس کی دلیل یہ دی ہے کہ خود قرآن میں کہاگیا ہے: ’’پس اُن سے درگزر کرو اور کہو کہ سلام ہے تم کو‘‘ -(47/11)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سلام جیسے معاملے میں مذکورہ قسم کی بحث اُس وقت پیداہوتی ہے، جب کہ اُس کو خالص فقہی اور قانونی نظریے سے دیکھا جائے- اس کے برعکس، اگر اِس معاملے کو دعوتی اخلاقیات کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ تالیفِ قلب کا مسئلہ بن جائے گا اور کہا جائے گا کہ اِس معاملے میں مسلم اور غیرمسلم کی تمیز مت کرو، بلکہ ہر ایک کو یکساں طورپر مدعو کی نظر سے دیکھو، حتی کہ اگر بالفرض فریقِ ثانی نے ’’السام علیکم‘‘ کہا ہے، تب بھی صفحِ جمیل ( 15:85 ) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے تم کو اس کے جواب میں السلام علیکم کہنا چاہئے، تاکہ وہ مثبت نتیجہ ظہور میں آئے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (41:34)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ نے لکھا ہے کہ — کیا اِس کا اطلاق آج ہمارے پڑوسی مذہب کےہندوبھائیوں پر بھی ہوگا- جواب یہ ہے کہ یقیناً ہوگا- جو مثبت روش آپ کو دوسرے اہلِ کتاب کے بارے میں اختیار کرنا ہے، وہی مثبت روش آپ کو ہندو مذہب کے لوگوں کے بارے میں بھی اختیار کرنا ہے- بعض علما نے ہندوؤں کو ’’شِبہہِ اہلِ کتاب‘‘ لکھا ہے- میں اِس کو توسیعی معنی میں لیتے ہوئے یہ کہوں گا کہ تمام دنیا کے لوگ یا تو اہلِ کتاب ہیں، یا شبہِ اہلِ کتاب، کیوں کہ قرآن میں صراحت کے ساتھ بتایا گیاہے کہ:  وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ (35:24) یعنی دنیا کی کوئی بھی قوم ایسی نہیں جس میں اللہ کی طرف سے کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content