انڈیا کے ایک اعلی تعلیم یافتہ مسلمان تعلیم کے بعد لندن چلے گئے- اب وہ مستقل طورپر لندن میں مقیم ہیں، انھوں نے برٹش شہریت لے لی ہے- اپنے سوچ کے اعتبار سے وہ الٹرا سیکولر (ultra-secular) ہیں- وہ اسلام یا کسی مذہب کو نہیں مانتے اور بالکل آزادانہ قسم کی زندگی گزارتے ہیں-
اب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے ہیں- ان کی صحت بہت زیادہ خراب ہوچکی ہے- لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھ کر وہ سوچتے ہیں کہ میں بھی اِسی طرح مرنے والا ہوں- وہ جاننا چاہتے ہیں کہ موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے- ایک صاحب کا بیان ہے کہ وہ لندن میں اُن سے ملے- ملاقات کے دوران انھوں نے کہا کہ— اگر معلوم ہوتا کہ کوئی ایسا شخص ہے جو یہ جانتا ہے کہ موت کے بعد کیا ہونے والا ہے تو میں اُس سے انتہائی عاجزانہ درخواست کرتاکہ وہ مجھے اس کے بارے میں بتائے:
I would beg him to tell me what is after death.
اِسی قسم کا ایک واقعہ کرسچن مشنری بلی گرہم نے بیان کیا ہے- انھوں نے لکھا ہے کہ ایک بار میں ایک سفر میں تھا- مجھ کو امریکا کے ایک بہت بڑے دولت مند آدمی کا میسج ملا، جس میں کہاگیا تھا کہ فوراً یہاں آکر مجھ سے ملو- جب میں وہاں گیا تو مذکورہ امریکی دولت مند نے کسی تمہید کے بغیر کہا کہ— تم دیکھتے ہو کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں- زندگی کی تمام معنویت ختم ہوچکی ہے- میں بہت جلد ایک نا معلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانے والا ہوں- کیا تم مجھ کو امید کی ایک کرن دے سکتے ہو:
You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope?
ایسے کسی سائل سے صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا، اس کو جاننے کا مستند ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ خداکی کتاب قرآن ہے-کوئی انسان نہیں جانتا کہ موت کے بعد کیا ہونے والا ہے، لیکن خالق ضرور اِس حقیقت کو جانتا ہے اوراس نے اپنی کتاب میں اِس حقیقت کو پوری طرح واضح کردیا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔