← Al-Risala July 2013Al-Risala July 2013
مغربی تہذیب، مغربی کلچر
Urdu · 5 min read
مغربی تہذیب اور مغربی کلچر دونوں ایک دوسرے سے اُسی طرح الگ ہیں جس طرح اسلام اورمسلمانوں کی قومی تاریخ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں- ایک شخص اگر ایسا کرے کہ وہ صرف مسلم تاریخ کو پڑھے اور اُسی سے اسلام کے متعلق رائے قام کرے تو وہ کہہ سکتاہے کہ مسلمانوں کا مذہب نام ہے — باہمی لڑائی، خاندانی حکومت، ملک گیری، فرقہ بندی، عسکریت اور خود کش بم باری جیسی چیزوں کا- مگر یہ تاثر سرتاسر غلط ہوگا، کیوں کہ یہ چیزیں بلاشبہہ مسلم تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن وہ ہرگز مذہب اسلام کا حصہ نہیں- اسلام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہےکہ اس کو مسلمانوں کی قومی تاریخ سے الگ کرکے دیکھاجائے، ورنہ آدمی اسلام کو سمجھنے سے قاصر رہے گا-
یہی معاملہ مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کا ہے- دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں- مغربی تہذیب اصلاً سائنسی تہذیب، بالفاظِ دیگر، قوانینِ فطرت کی دریافت کا نام ہے- اِس دریافت کے نتیجے میں جو نظام وجود میں آیا، اُسی کا نام مغربی تہذیب ہے- دوسری چیز مغربی اقوام ہیں- مغربی اقوام کو اُسی طرح آزادی ملی ہوئی ہے جس طرح دوسری قوموں کو آزادی ملی ہوئی ہے- وہ بھی اُسی طرح خواہشات کا شکار ہوتی ہیں جس طرح دوسری قومیں خواہشات کا شکار ہوتی ہیں- ان کے درمیان بھی اُسی طرح ایک قومی سیاست وجود میں آتی ہے جس طرح دوسرے گروہوں کے درمیان ان کی قومی سیاست وجود میں آتی ہے- اِن اسباب کی بنا پر مغربی قوموں کی درمیان بھی وہ تمام خرابیاں پیداہوئیں جو دوسری قوموں میں پیدا ہوئیں، حتی کہ خودمسلم قوموں کے درمیان بھی- عدل کا تقاضا ہے کہ ہم دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھیں- اِس قسم کی عادلانہ تفکیر کا یہ نتیجہ ہوگا کہ ہم اِس غلطی سے بچ جائیں گےکہ ہم اہلِ مغرب کی قومی خرابیوں کو سائنسی تہذیب کا حصہ سمجھ لیں اور مغربی اقوام اور سائنسی تہذیب دونوں کے بارے میںیکساں طورپر منفی ذہن کا شکار ہوجائیں- یہ عین وہی منصفانہ طریقِ مطالعہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے ذیل میں کیا جاتا ہے- مسلمانوں کی قومی خرابیوں کو الگ کرکے اسلام کو اس کی نظریاتی حیثیت میں دیکھا جاتا ہے- اس طریقِ مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مطالعہ کرنے والے کے سامنے اسلام کی بھی درست تصویر آتی ہے اورمسلم قوم کی بھی درست تصویر-
مغربی تہذیب بمعنی سائنسی تہذیب، اسلام کی دشمن نہیں، بلکہ وہ اسلام کے لیے ایک عظیم مددگار کی حیثیت رکھتی ہے- مغربی تہذیب بمعنی سائنسی تہذیب کے ذریعے موجودہ زمانے میں بہت سی نئی حقیقتیں سامنے آئی ہیں- اِن حقیقتوں کے ذریعے سائنس نے فیصلے کی ایک نئی بنیاد فراہم کی ہے جو عین ہمارےحق میں ہے- مثال کے طورپر سائنسی طریقِ مطالعہ کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ کوئی چیز مقدس (holy) نہیں، ہر چیز علمی تنقیح (scientific scrutiny) کے تابع ہے- اِس اصول کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی تاریخ میں ایک نیا شعبہ علم وجود میں آیا جس کو تنقید عالیہ (higher criticism) کہاجاتا ہے- اِس شعبہ علم کے تحت قدیم مذہبی کتابوں، خصوصاً بائبل کا، تنقیدی مطالعہ کیا جانے لگا، جب کہ یہ کتابیں پہلے تنقید سے بالا تر سمجھی جاتی تھیں- اِس مطالعے کا نتیجہ یہ ہوا کہ خالص علمی اعتبار سے، یہ ثابت ہوگیا کہ یہ کتابیں تاریخی اعتباریت (historical credibility) سے خالی ہیں- اِس سلسلے میں مغربی زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں سے ایک کتاب یہ ہے:
Albert Schweitzer, The Quest of the Historical Jesus, Published 1910, London
other sourceWords of another person or source
اِسی طرح، سائنسی تہذیب نے ایک نیا فکر پیداکیا جس کو مبنی بر قطعیت فکر (exact thinking) کہاجاتاہے- اِس فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ سبجیکٹیو طرزِ فکر (subjective thinking) غیرمعقول قرار پاگیا اور آبجیکٹیو طرزِ فکر(objective thinking) کو درست سمجھا جانے لگا- اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ وہ کتابیں غیر معتبر قرار پاگئیں جو صلیبی جنگوں (Crusades)کے بعد اسلام اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے کے لیے غیر علمی انداز میں لکھی گئی تھیں- اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے حسب ذیل کتاب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے:
On Heroes, Hero-Worship (1841) by Thomas Carlyle
اِسی طرح، سائنسی تہذیب کے تحت فطرت کا جو مطالعہ شروع کیا گیا، اس کے نتیجے میں فطرت کے بہت سے راز دریافت ہوئے- رموزِ فطرت کی یہ دریافت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، آیات اللہ (signs of God) کے انکشاف کے ہم معنی تھی- اِن دریافتوں کے نتیجے میں یہ ممکن ہوگیاکہ اسلام کی صداقتوں کو وقت کے مسلّمہ علمی معیار کی سطح پر ثابت شدہ بنایا جاسکے- اِس سلسلے میں ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب— مذہب اور جدید چیلنج جو عربی میں ’الإسلام یتحدى‘ کے نام سے چھپی ہے- اِس کتاب کا انگریزی ایڈیشن گاڈ ارائزیز (God Arises) کے نام سے چھپ چکا ہے-
اِسی طرح مغربی تہذیب کے تحت دنیا میں اور کئی چیزیں وجود میں آئیںجو علمی طورپر مفید ہونے کے علاوہ، خود اسلام کے لیے بے حد مفید تھیں- مثلاً فکری آزادی، مذہبی تنگ نظری کا خاتمہ، جمہوریت کا عالمی فروغ، عالمی سیاحت (world tourism)، جس کا مطلب یہ تھا کہ مدعو خود داعی کے پاس بڑی تعداد میں پہنچنے لگا، وغیرہ- اِسی طرح مغربی تہذیب کے تحت ایک دور وجود میں آیا جس کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتاہے- اِس کے تحت پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا جیسی چیزیں وجود میں آئیں جو اسلام کی دعوت واشاعت کے اعتبار سے، بلاشبہہ ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہیں-مغربی تہذیب کے تحت موجودہ زمانے میں اِس طرح کی بہت سی مفید چیزیں وجود میں آئی ہیں- چوں کہ مغربیقومیں اور دوسری قومیں بھی اِن چیزوں کا اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں، اس لیے مسلمان اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے، مگر اِس دنیا میں خود اللہ تعالی نے ہر عورت اور مرد کو آزادی عطا کیہے- اِس دنیا کے جو فطری وسائل (means) ہیں، اُن کو ہر ایک اپنے حق میں استعمال کرتا ہے- اِسی طرح تہذیبی وسائل کو بھی ہر گروہ اپنے اپنے حق میں استعمال کرے گا- مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اِس معاملے میں خدائی منصوبے کو سمجھیں اور حقیقت پسندانہ روش اختیار کریں- جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ سورج صرف مسلم بستیوں میں چمکے اور غیر مسلم بستیوں میں اندھیرا چھایا رہے، اِسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہےکہ فطرت میں چھپی ہوئی نعمتوں کو مسلمان تو اپنے حق میں استعمال کریں اور غیر مسلم ان کو اپنے حق میں استعمال کرنے سے محروم رہیں-
unverifiedAttribution could not be verified automatically