Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala July 2013
Al-Risala July 2013

اسپریچول الحاد

Urdu · 1 min read

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیاکےشمارہ25 اپریل 2013کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکا میںایسے لوگوں کی تعدا د بڑھ رہی ہے جو اپنے آپ کو کرسچن نہیں کہتے، بلکہ وہ اپنے آپ کو نان بلیور کہنا پسند کرتے ہیں:

other sourceWords of another person or source

15 percent Americans now identify themselves as non-believers.

تاہم یہ لوگ اپنے آپ کو ملحد (atheist)کہنا پسند نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے کیس کو بتانے کے لیے اپنے لیے اسپریچول ملحد (spiritual atheist) کا لفظ استعمال کرتےہیں-

یہ صر ف امریکا کی بات نہیں ہے، بلکہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں ایسے افراد کثرت سے پائے جاتے ہیں جو عملاً مذہب کو چھوڑ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اسپریچولٹی (spirituality) کی تلاش میں رہتے ہیں- وہ چاہتے ہیں کہ مذہب کے دائرے سے باہر انھیں کوئی ایسی چیز مل جائے جو اُن کو روحانی سکون دے سکے-

ایسا کیوں ہے- اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک روحانیت پسند مخلوق ہے- مذہب کے نام سے وہ صرف اُس کلچر کو جانتا ہے جو آج مذہبی گروہوں کے درمیان پایا جاتا ہے- یہ کلچر اس کو اپیل نہیں کرتا، اِس لیے وہ اپنی فطرت کی تسکین کے لیے اسپریچولٹی کی تلاش میں رہتا ہے-

انسان فطری طورپر یہ چاہتاہے کہ وہ اپنے خالق (creator) کو پائے اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالے کردے- مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اِسی خالق کا تعارف ہے- مگر موجودہ زمانے کے اہلِ مذہب اپنے زوال کی بنا پر، مذہب کی غلط نمائندگی کررہے ہیں- ضرورت ہے کہ مذہب کی اصل تصویر کو لوگوں کے سامنے بے آمیز شکل میں پیش کیا جائے- اگر ایسا کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسپریچویلٹی کے نام سے انسان جس چیز کی تلاش میں تھا، وہ دراصل خود خدا اورمذہب تھا، نہ کہ کوئی اور چیز-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content