انوپم کھیر فلمی دنیا کی ایک ممتاز شخصیت ہیں- ان کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ان کے اندر کبر (arrogance) پایا جاتاہے- نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (21 فروری 2013) میں ان کا ایک انٹرویو چھپا ہے- اِس انٹرویو میں اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کے اندر کبر ہے- اِس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا— میرے اندر کبر کا مزاج اس لیے ہے کہ میں ایک سیلف میڈمین ہوں اور میں اپنے آپ کو ایک محفوظ آدمی تصور کرتاہوں:
My arrogance comes from my being a self-made man and a secure person. (p. 8)
کہا جاتاہے کہ سیلف میڈ مین کا لفظ پہلی بار بنجامن فرینکلن نے اپنی آٹو بائگریفی میں استعمال کیا تھا- بنجامن فرینکلن 1706میں امریکا کی ایک غریب فیملی میں پیداہوا- اس کا باپ موم بتی بنایا کرتا تھا- بنجامن فرینکلن نے اعلی تعلیم حاصل کی- اس نے اپنی زندگی میں غیر معمولی جدوجہد کی، یہاں تک کہ 1790 میں جب وہ مرا تو وہ امریکا کی تاریخ میں امریکا کے فاؤنڈنگ فادر کی حیثیت سے لکھاگیا- بنجامن فرینکلن اپنی آخری عمر میں مختلف بیماریوں کا شکار ہوگیا- اپنی زندگی کے آخری تین سال اس نے اِس طرح گزارے کہ وہ لاس اینجلیز میں اپنے گھر کے اندر رہتا تھا اور پبلک کے سامنے نہیں آتا تھا-
سیلف میڈ مین کا تصور تمام تر لوگوں کی ناواقفیت پر مبنی ہے- حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان گاڈ میڈ مین (God-made man) ہوتاہے، کوئی بھی شخص سیلف میڈ مین نہیں ہوتا- اِسی حقیقت کو یاد دلانے کے لیے اللہ تعالی انسان کے اوپر بڑھاپا طاری کرتاہے- قرآن میں ارشاد ہواہےکہ— ہم جس کو لمبی عمر دیتے ہیں ، اس کو اس کی ابتدائی تخلیق کی طرف لوٹا دیتے ہیں- کیا وہ سوچتے نہیں(36:68)- ابتدائی تخلیق سے مراد بچپن کی حالت ہے- انسان بچپن کے زمانے میں عاجز ہوتا ہے اور بڑھاپے کے زمانے میں بھی عاجز- عجز کا یہ دو طرفہ تجربہ انسان کو کبر سے بچانے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ وہ سوچے -
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔