Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2013
Al-Risala July 2013

قرآن کی تلاوت

Urdu · 2 min read

قرآن کی تلاوت صرف ثواب کے لیے نہیں ہے، بلکہ قرآن کی تلاوت کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کے ذریعے اللہ کی ہدایت حاصل کی جائے - قرآن کتاب ہدایت ہے اور قرآن کے ذریعے ہدایت حاصل کرنا یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے قرآن کی تلاوت کرنا چاہیے-

اِس مقصد کو حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ جب قرآن کو پڑھیں تو اس کی ہر آیت کو آپ اپنی ذات پر منطبق (apply) کریں، اس کی ہر آیت کو آپ اپنی ذات کے لیے عملی رہنما بنائیں-مثلاً آپ نے قرآن میں یہ آیت پڑھی: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْم(95:4)تو اِس آیت کی روشنی میں آپ خود اپنے وجود پر غور کریں- آپ یہ دریافت کریں کہ آپ کا پورا وجود ایک انوکھی شخصیت (unique personality) ہے- بال اور ناخن سے لےکر دماغ تک، آپ کے جسم کی ہر چیز انتہائی حد تک بامعنی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اپنے وجود کے بارے میں آپ یہ دریافت صرف ایک دن نہ کریں، بلکہ ہر دن کریں- جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کے اندر وہ چیز پیدا ہوگی جس کو تھرلنگ معرفت (thrilling realization) کہاجاسکتاہے-

اِسی طرح جب آپ قرآن میں یہ آیت پڑھیں: اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ (6:14) تو اِس آیت کو آپ اپنے اوپر منطبق کریں- آپ یہ سوچیں کہ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے سب سے پہلے مجھے یہ کرنا ہے کہ میں اپنے آپ کو داعی کی حیثیت سے تیار کروں، میںاپنی سوچ اور اپنے برتاؤ کے اعتبار سے اپنے اندر داعیانہ شخصیت پیدا کروں اور پھر ہر دن اِس اعتبار سے ، اپنا محاسبہ کرتارہوں — یہی قرآن کی تلاوت کا صحیح طریقہ ہے اور یہی وہ تلاوت ہے جس کو قرآن میں حقِ تلاوت (2:121) کہاگیا ہے- یہی وہ تلاوت ہے جس کے ذریعے آدمی کے اندر مطلوب ربانی شخصیت پیدا ہوتی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content