قرآن میں بتایا گیاہے کہ قیامت میں جب تمام لوگ حشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اُس وقت اُن لوگوں کو کھڑا کیا جائے گا جن لوگوں نے دنیا میں اللہ کے دین کی گواہی دی تھی: یَوْمَ یَقُوْمُ الْأَشْہَاد(40:51) یہ اللہ کے سامنے پیشی کا دن ہوگا۔ اُس دن لوگوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کس نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف جنگ کی، کس نے ان کے خلاف گن کلچر چلایا، کس نے ان کے خلاف خود کش بم باری کی، کس نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف کتنی نفرت کی۔ اُس دن یہ بھی نہیں پوچھا جائے گا کہ کس نے اسلامی نظام کے نام پر قیادت کے ہنگامے کھڑے کئے، کس نے کتنا زیادہ سوشل ورک کیا، کس نے مسلم ایمپاورمینٹ کا کام کتنا انجام دیا، کس نے ملی محاذ پر سرگرمیاں دکھائیں، کس نے اسلام کے نام پر کتنی زیادہ بلڈنگیں کھڑی کیں، کس نے مسجدوں میں اونچے اونچے مینار بنائے، کس نے تحفظِ اسلام کے نام پر بڑے بڑے جلوس نکالے، وغیرہ۔ قیامت کے دن جب اللہ اور اس کے فرشتے لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے، اُس وقت صرف ایک ہی سوال ہوگا، وہ یہ کہ وہ کون ہے جس نے قوموں کے سامنے انذار وتبشیر کا کام انجام دیا۔ کس نے خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا، کس نے خدا کے تخلیقی منصوبے سے لوگوں کو آگاہ کیا۔
قرآن میں بتایا گیاہے کہ امت محمدی کا اصل کام یہ ہے کہ وہ ختم نبوت کے بعد خداکے پیغام کو سارے انسانوں تک اُسی طرح پہنچائے جس طرح اس سے پہلے نبیوں نے پہنچایا۔ یہی وہ معیار ہے جس پر قیامت کے دن لوگوں کو جانچا جائے گا۔ جو لوگ اس معیار پر پورے اتریں گے، وہ حقیقی معنوں میں اللہ کے یہاں امتِ محمدی قرار پائیں گے۔ اور جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں، اُن کے لیے سخت اندیشہ ہے کہ جب قیامت کے دن وہ حشر کے میدان میں حاضر ہوں تو اُن کے بارے میں یہ اعلان کردیا جائے کہ تم اِس قابل نہیں کہ تم کو امتِ محمدی کا حصہ قرار دیا جائے۔ تم دنیا میں خداکے بتائے ہوئے راستے سے دور تھے، اب تمھارے لیے یہی مقدر ہے کہ تم ہمیشہ کے لیے خدا کی رحمتوں سے دور ر ہو، تمھارے لیے خدا کی رحمتوں میں حصہ پانا مقدر نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔