قرآن کی سورہ النساء میں ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَمَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَة (4:100) یعنی جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا-
قرآن کی اِس آیت میں ہجرت سے مراد صرف زمینی ہجرت نہیں ہے، اِس میں وہ تمام واقعات شامل ہیں جو ہجرت سے مشابہت رکھتے ہوں- مثلاً ایک آدمی ایک دینی تنظیم (organization) سے وابستہ تھا، پھر ایسے اسباب پیش آئے کہ اس کو اِس تنظیم کو چھوڑ کر دوسری دینی تنظیم سے وابستہ ہونا پڑا،تو ایسا شخص بھی بلا شبہہ مہاجر فی سبیل اللہ ہے- اُس کے لیے بھی وہ تمام خدائی بشارتیں مقدر ہیں جو مذکورہ آیت میں وطنی مہاجر کے لیے بتائی گئی ہیں- ایسے مہاجر فی سبیل اللہ کو بلا شبہہ اللہ کی مدد حاصل ہوگی، نئے ماحول میں وہ اپنے لیے مزید اضافے کے ساتھ مواقعِ عمل پالے گا- اس کو اللہ کی طرف سے یقینی طورپر رزقِ مادی بھی ملے گااور رزقِ معنوی بھی-
اِس آیت میں وسعت (کشادگی) کی بشارت بہت بامعنی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی ’’ہجرت‘‘ کے بعد آدمی کو وسیع تر دائرہ کار ملے گا، اس کے ذہنی افق میں اضافہ ہوگا، نئے تجربات اس کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بنیں گے، وہ محسوس کرے گاکہ وہ بند ماحول سے نکل کر کھلے ماحول میں آگیا ہے- اُس نے پچھلے ساتھیوں کے مقابلے میں، بہتر ساتھی اور پچھلے حالات کے مقابلے میں، بہتر حالات پالیے ہیں، وہ محدود دنیا سے نکل کر لامحدود دنیا میں آگیا ہے- اس کی ہجرت اس کے لیے ذہنی ترقی کا ذریعہ ثابت ہوگی اور روحانی ترقی کا ذریعہ بھی- اُس کے یقین، اس کی معرفت، اس کی بصیرت اور اس کے تعلق باللہ میں ناقابلِ قیاس حد تک اضافہ ہوجائےگا- اُس پر یہ قول صادق آئے گا کہ — مالی کبھی ایک پودے کو ایک جگہ سے نکال کر دوسری جگہ نصب کرتا ہے، صرف اِس لیے کہ پودے کو اپنی نشو ونما (growth) کے لیے زیادہ بہتر موقع دیا جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔