قرآن کی سورہ البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں داخلہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ تمام تر شخصی صفات کی بنیاد پر ہوگا- اِس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے: بَلٰی ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(2:112) یعنی جس نے جھکا دیا اپنا چہرہ اللہ کے لیے اور وہ محسن ہے تو ایسے شخص کے لیے اجر ہے اس کے رب کے پاس، اُن کے لیے نہ کوئی ڈر ہےاور نہ کوئی غم-
قرآن کی اِس آیت میں کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کی دوشرط بتائی گئی ہے— ایک، اپنا چہرہ اللہ کے لیے جھکا دینا- دوسرے، اُس انسان کا محسن ہونا- پہلی شرط کا تعلق فارم (form) سے ہے اور دوسری شرط کا تعلق اسپرٹ (spirit) سے-
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اُس انسان کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں دوشرطوں پر پورا اترے- ایک، یہ کہ اس کی زندگی بہ اعتبار فارم اسلام پر مبنی ہو- مگر صرف فارم کو اختیار کرنا کافی نہیں، اُسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ محسن ہو- محسن یا احسان کا مطلب ہےکسی کام کو اچھی طرح کرنا (to do better) - کسی انسان کی زندگی میں جب یہ دوشرطیں جمع ہوں تو اس کے بعد ہی وہ جنت میں داخلے کا مستحق قرار پاتا ہے-
کسی کام کو اچھی طرح کرنا کب ممکن ہوتاہے، یہ اُس وقت ممکن ہوتاہے جب کہ انسان اپنے کام کو صرف جسمانی طورپر نہ کرے، بلکہ اس کا دل ودماغ اس کے ساتھ وابستہ ہوجائے- وہ اسی کے لیے سوچے، اس کے جذبات اسی کے ساتھ وابستہ ہوں، وہ کام پوری طرح اس کی توجہ کا مرکز بن گیا ہو، اس کی زندگی میں اُس کام کا درجہ مقصدحیات کا ہو، نہ کہ صرف ایک رسم یا ایک رٹین (routine) کا- یہی احسان ہے، اور کوئی شخص جنت میں داخلے کے قابل صرف اُس وقت بنتا ہے جب کہ اُس کے دینی عمل میں احسان کی یہ روح شامل ہوجائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔