حضرت نظام الدین اولیاء (وفات:1325 ء) کے ملفوظات میں آیا ہے کہ انھوں نے ایک مجلس میں کہا کہ خیر وشر دونوں کا خالق اللہ ہے۔ جس کو جو کچھ پہنچتا ہے، اسی کی مشیت سے پہنچتا ہے۔ اِس کے بعد انھوں نے مشہور ایرانی صوفی ابو سعید ابو الخیر (وفات: 1049 ء) کا یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک دن وہ کہیں جارہے تھے کہ راستہ میں ایک نادان آدمی نے پیچھے سے ان کے سر پر ہاتھ سے مار دیا۔ انھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نادان آدمی نے کہا، مجھے کیا دیکھتے ہو، کیا تم یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ کسی کو جو کچھ پہنچتا ہے، خدا کی طرف سے پہنچتا ہے۔ اس کے جواب میں شیخ ابوسعید نے یہ جملہ کہا:
’’فرمود کہ ہم چنیں است ولے آں می بینم کہ کدام بد بخت را نامزد این کار کردہ اند‘‘۔ یعنی یہ بات ایسی ہی ہے، لیکن میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ خدا نے کس بد نصیب کو اِس کام کے لیے نامزد کیا ہے۔ (فوائد الفوائد، صفحہ 247)
یہ واقعہ حسن جواب کی ایک مثال ہے۔ اِسی بات کو قرآن کی ایک آیت میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: واصبر علی ما یقولون واہجرہم ہجراً جمیلاً (73: 10)یعنی جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں، اُس پر صبر کرو اور خوب صورتی کے ساتھ ان سے الگ ہوجاؤ:
Bear patiently with what they say, and ignore them politely.
اگر مخاطب سنجیدہ ہے اور وہ بات کو سمجھنا چاہتا ہے تو اس کو دلیل کی زبان میں سمجھائیے، اور اگر آپ محسوس کریں کہ مخاطب سمجھنے کے موڈ میں نہیں ہے تو اس کو حسنِ جواب سے ٹال دیجئے۔ یہی ’ہجر ِ جمیل‘ ہے۔ یہ دعوتی عمل کا اہم اصول ہے۔
داعی کو چاہیے کہ وہ مذکورہ دونوں قسم کے انسانوں میں فرق کرے، ورنہ وہ غیر ضروری طورپر لوگوں سے الجھ جائے گا اور اپنے وقت اور اپنی توانائی کو ضائع کرے گا۔ بعض اوقات حسنِ جواب اُس سے زیادہ اہم ہوتا ہے جتنا کہ باقاعدہ قسم کا علمی جواب۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔