ایک خبر کے مطابق، ذہنی تناؤ (mental tension) کا علاج شاک تھیریپی کے ذریعے معلوم کیا گیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ— ہلکی برقی رو خارج کرنے والا ایک آلہ سونے کے دوران استعمال کیا جائے تو اس سے ذہنی تناؤ اور مایوسی کی کیفیت سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ سیل فون (cell phone)کے سائز کا یہ آلہ سوتے وقت ماتھے سے لگا دیا جاتا ہے۔ اس میں پیدا ہونے والی برقی رو اتنی ہلکی ہوتی ہے کہ اِس سے نیند خراب نہیںہوتی ہے۔ رات بھر خارج ہونے والی برقی رو انسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے، جس سے منفی کیفیات اور ذہنی تناؤ سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے۔ (پندرہ روزہ ’’مستقبل‘‘ نئی دہلی، دسمبر 2010 ، صفحہ 6 )
مگر یہ صحیح نہیں۔ ذہنی تناؤ ایک فکری مسئلہ ہے اور فکری مسئلہ کو صرف فکری تدبیر کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے، کوئی ٹکنکل تدبیر اِس معاملے میں کار آمد نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی تناؤ کوئی واقعی مسئلہ نہیں، وہ صرف غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔ اپنی سوچ کو درست کر لیجئے، اِس کے بعد آپ کو ذہنی تناؤ کی شکایت نہ ہوگی۔
سوچ کی درستگی کیا ہے۔ وہ ہے اپنی سوچ کو عالمِ خارجی کے مطابق بنانا۔ جس صورت ِ حال کو آپ بدل نہیں سکتے، اس کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرلینا، اِس حقیقت کو مان لینا کہ آپ دنیا کو بدل نہیں سکتے، اِس لیے آپ کو چاہیے کہ خود اپنے آپ کو بدل لیں۔
حقیقت پسندی یہ ہے کہ آپ اپنی ذات کے معاملے میں معیار پسند (idealist) بنیں، اور خارجی دنیا کے معاملے میں آپ پریکٹکل (practical) بن جائیں۔ یہی دانش مندی (wisdom) کا تقاضا ہے۔ ذہنی تناؤ دراصل یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی معیار اور خارجی واقعہ کے درمیان مفاہمت (adjustment) دریافت نہ کرسکے— ذہنی تناؤ کا حل صرف فکری تھریپی (intellecutal therapy) کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ ٹکنکل تھریپی (technical therapy) کے ذریعے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔