Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Al-Risala July 2011
Al-Risala July 2011

خدا کی طرف

Urdu · 11 min read

Road to God

کہا جاتا ہے کہ حجری دور (stone age) میں ایک بار ایسا ہوا کہ دو آدمی کسی بات پر غصہ ہوگئے۔ وہ ایک دوسری کے طرف پتھر پھینکنے لگے۔ اتفاق سے ایک شخص کا پتھر دوسرے شخص کے پتھر سے ٹکرا گیا۔ اُس وقت دو پتھر کے ٹکرانے سے اسپارکنگ (sparking) ہوئی۔ پتھر سے ایک چنگاری نکلی۔ اِس چنگاری کو دیکھ کر دونوں آدمی اپنا غصہ بھول گئے۔ دونوں آدمی اپنے اپنے پتھر کو لے کر اس کو دیکھنے لگے، تاکہ وہ چنگاری کا راز دریافت کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کہا جاتا ہے کہ یہی وہ واقعہ ہے جہاں سے سچائی کی تلاش کا آغاز ہوا۔ لوگ اِس سوال پر غور کرنے لگے کہ کیا یہاں انسان اور مادہ (matter) کے سوا کوئی اور طاقت موجود ہے۔ یہ سوال دھیرے دھیرے خدا کے تصور تک پہنچا۔ یہ سیکولر مفکرین کا نظریہ ہے۔ مگر اسلام کا تصور یہ ہے کہ پہلے انسان (آدم) ہی سے خالق کے وجود کا تصور انسان کے علم میں آچکا تھا۔ پتھر کے ٹکرانے کا واقعہ اگر درست ہو تو یہ فطرت کے قانون کو تلاش کرنے کا آغاز تھا، نہ کہ خدا کو تلاش کرنے کا آغاز۔ ہر پیغمبر نے یہی بتایا کہ اِس عالمِ موجودات کا ایک خدا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ اُسی خدا کو اپنا معبود بنائے اور اُسی کی عبادت کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن اِس پیغمبرانہ الہام کا ایک محفوظ ومستندمجموعہ ہے۔ قرآن کی سورہ الذاریات میں انسان کے مقصد تخلیق کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وما خلقت الجن والانس إلا لیعبدون (51: 56) یعنی میں نے جن کواور انسان کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ اِس آیت میں لیعبدون سے مراد لیعرفون ہے، یعنی اِس آیت میں، اللہ کی عبادت سے مراد اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا کی معرفت کیا ہے۔ خدا اِس کائنات کا خالق ہے۔ اُس کی معرفت یہ ہے کہ تخلیق میں خالق کو دریافت (discover) کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق اپنے آپ میں خالق کا مکمل تعارف ہے۔ ہمیشہ انسان تخلیق میں خالق کو دیکھتا رہاہے۔ موجودہ زمانے میں نیچر کے بارے میں سائنس کی دریافتوں نے تعارف کے اِس دائرے کو ہزاروں گنا زیادہ حد تک بڑھا دیا ہے۔

یہاں اس سلسلے میں ایک بنیادی پہلو کا ذکر کیا جاتا ہے۔اِس بنیادی پہلو کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے، ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کے بارے میں انسان کا مطالعہ اس کو یقین کے بجائے کنفیوژن تک پہنچا دے، وہ خدا کی طرف سفر کرتے ہوئے کسی غیر خدا کی منزل تک پہنچ جائے۔

موجودہ زمانے میں سائنس کے حوالے سے خدا کے وجود (existence of God) کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً:

Nature and Science Speaks about God

The Evidence of God in an Expanding Universe

اللہ یتجلی فی عصر العلم (انگریزی سے ترجمہ)

مگر سائنس کے بارے میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ سائنس کامل علم کا نام نہیں۔ سائنس اپنی دریافتوں کے باوجود جہاں تک پہنچی ہے یا پہنچ سکتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر صرف جزئی علم دے سکے۔ اِس حقیقت کو جے این سلیون (JN Sullivan) نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Science gives us but a partial knowledge of reality.

حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دریافت کا سفر بنیادی طورپر دو مرحلوں میں طے ہوتا ہے۔ پہلا مرحلہ وہ ہے جو عقلی غوروفکر اور سائنسی معلومات کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ یہ ذریعہ بلا شبہہ نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے۔ لیکن وہ اپنے آخری درجے میں بھی ایک مسافرِ حق کو جہاں پہنچاتا ہے، وہ صرف احتمال (probability) ہے، یعنی— امکانی طورپر یہاں ایک خدا کا وجود ہے:

Probably there is a God.

یہاں احتمال (probability) سے مراد سادہ طور پر صرف احتمال نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد اعلیٰ عقلی احتمال ہے۔ اعلیٰ عقلی احتمال کو دوسرے لفظوں میں شِبہہِ یقین (semi-conviction) کہاجاسکتا ہے۔ احتمال کا یہ مقام وہ مقام ہے جہاں آدمی شک (doubt) کے لمبے راستے کو طے کرکے آخر کار پہنچتا ہے۔ یہ احتمال دراصل درمیان کا ایک مقام ہے۔ اس کے پیچھے کی طرف شک ہوتا ہے اور آگے کی طرف یقین۔ مگر یہ احتمال اتنا زیادہ قوی ہوتا ہے کہ اب شک کی طرف دوبارہ واپسی اس کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ وہ آگے یقین (conviction) کی طرف بڑھے۔

ایسا ایک آدمی جب پیچھے کی طرف راستہ بند پاکر آگے کی طرف جانا چاہتا ہے تو آگے کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہی اس کو ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔ اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندر وجدان (intuition) کی سطح پر معرفت کا ایک نیا دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ جس علم کا ادراک اب تک مجھے خارجی معلومات (external data) کے ذریعے ہو رہا تھا، اُس علمی معرفت تک اب میری براہِ راست رسائی ہوگئی ہے۔ جس علم کو اِس سے پہلے میں اپنی خارجی بصارت (objective observation) کے ذریعے جاننے کی کوشش کررہا تھا، وہ علم اب میرے لیے داخلی بصیرت (inner perception) کا حصہ بن گیا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ عقلی غور وفکر کی حد خلا (vacuum) پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے بعد فوراً دریافت کا ایک نیا دروازہ کھل جاتا ہے۔ یہ وجدان کا دروازہ ہے۔

آدمی کے اندر بیک وقت دو صفتیں ہیں — عقل (reason)، اور وجدان (intuition) ۔ عقل کسی مجہول چیز کا نام نہیں۔ اِسی طرح وجدان بھی کسی مجہول چیز کا نام نہیں۔ باعتبار واقعہ دونوں ہی مسلّمہ حقائق پر مبنی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عقل خارجی حقائق کی بنیاد پر کام کرتی ہے، جب کہ وجدان براہِ راست طور پر داخلی حقیقت سے جڑا ہوا ہے۔ عقل جس چیز کو خارجی شواہد کے ذریعے معلوم کرتی ہے، وجدان اُسی چیز کو داخلی فطرت کے ذریعے جان لیتا ہے۔ عقل کا سفر زمان ومکان (time & space) تک محدود ہے، لیکن وجدان کا سفر زمان ومکان سے باہر (beyond time & space) تک وسیع ہے۔

احتمال سے یقین تک پہنچنے کا یہ معاملہ کسی خوش فہمی (wishful thinking) پر مبنی نہیں، وہ تمام تر علم کے اوپر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ احتمال کے درجے تک پہنچتا ہے تو وہ اُس کے لیے ایک ایسا فطری واقعہ ہوتا ہے جو اُس انسان کے ساتھ لازماً پیش آتا ہے جو حقیقی معنوں میں احتمال کے مقام تک پہنچ گیا ہو۔

یہاں یہ سوال ہے کہ وجدان کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کو کیوں کر مستند علم سمجھا جائے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جس آدمی کے اوپر وجدان کا یہ دروازہ کھل جائے، وہ اپنی داخلی بصیرت کے تحت ایسی باتوں کو جاننے لگتا ہے جس کا علم اُس کو پہلے حاصل نہ تھا۔ بعد کو خارجی حقائق بالواسطہ طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُس کو اپنے وجدان کے ذریعے جو علم حاصل ہوا تھا، وہ ایک حقیقی علم تھا، وہ کوئی فرضی واہمہ نہ تھا۔ راقم الحروف کو ذاتی طورپر بار بار اِس کا تجربہ ہوا ہے۔

موجودہ زمانے میں سائنسی طریقہ (sientific method) کو مستند طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی چیز کودریافت (discover) کرنے کے لیے سائنس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ — پہلے مفروضہ، اس کے بعد مشاہدہ، اور پھر تصدیق:

Hypothesis, Observation, Verification

اِس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ایک سوچنے والے دماغ میں ایک تصوراتی مفروضہ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ متعلق شواہد کی تحقیق کرتا ہے۔ اگر یہ شواہد اس کے مفروضہ کی تصدیق کریں تو اس کے بعد اس کا مفروضہ ایک مسلّمہ حقیقت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ وجدان کے ذریعہ دریافت ہونے والی حقیقت کا ہے۔ یہاں بھی یہی ہوتاہے کہ پہلے ایک سچے متلاشی (true seeker) کے دماغ میں ایک تصور آتا ہے۔ اِس کے بعد وہ متعلقہ حوالوں (relevant reference) کی روشنی میں اس کی مزید تحقیق کرتاہے، یہاں تک کہ ثابت ہوجاتاہے کہ اس کا مفروضہ درست تھا۔

راقم الحروف کو اپنی تلاش کے دوران بار بار ایسے تجربات پیش آئے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ صوفیا کے حلقے میں ایک قول کا حدیثِ قدسی کی حیثیت سے بہت چرچا ہے۔ وہ قول یہ ہے: کنتُ کنزاً مخفیا، فأحببتُ أن اُعرف، فخلقتُ خلقاً، فبی عرفونی (کشف الخفاء، 2/1011 ) یعنی میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق (انسان) کو پیدا کیا، پھر انسان نے مجھ کو پہچانا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میرا بے آمیز وجدان کہتا تھا کہ یہ قول بالکل درست ہے۔ یہ معرفت کے معاملے کی بالکل صحیح تعبیر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اِس روایت کی کوئی قابلِ اعتماد سند موجود نہیں۔ اِس لیے علما عام طور پر اِس کو مستند نہیں مانتے۔ تاہم میں اس کی تحقیق کرتا رہا۔ چناں چہ میں اِس دریافت تک پہنچا کہ خود قرآن میں اِس تصور کی اصل موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الذاریات میں یہ آیت آئی ہے: وما خلقتُ الجن والإنس إلا لیعبدون (51: 56) ۔ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت میں ’’عبادت‘‘ سے مراد معرفت لیا ہے۔ انھوںنے اِس آیت کی تفسیر اِن الفاظ میں کی ہے: وماخلقت الجن والإنس إلا لیعرفون۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس مثال میں، میرے وجدان نے مجھ کو ایک علم تک پہنچایا، وہ یہ کہ اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ اِس کے بعد میںنے مزید غور کیا تو میں اِس دریافت تک پہنچا کہ مذکورہ قول دراصل ایک تفسیری قول ہے جس کو قائل نے آیتِ قرآنی کی رعایت سے، حدیثِ قدسی کی زبان میں بیان کردیا۔ اِس قول کے الفاظ اگر بدل دئے جائیں اور اس کو ایک تفسیری قول کی شکل دے دی جائے تو وہ اِس طرح ہوگا: کان اللہ کنزاً مخفیا، فأحبّ أن یُعرف، فخلق الخلق۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ ایک سچے متلاشی کا وجدان، عقلی بنیاد سے بھی زیادہ مضبوط بنیاد ہے۔ عقلی بنیاد آدمی کو صرف فنی سطح کے ظاہری علم تک پہنچاتی ہے، لیکن ایک سچے متلاشی کا وجدان مزید اضافے کے ساتھ حقیقت شناسی (realization of truth) کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ سطح ہے جب کہ ایک ترقی یافتہ ذہن ادراکِ حقیقت کی ایک ایسی سطح پر کھڑا ہوجاتا ہے جہاں سے وہ حقیقت کو براہِ راست دیکھ سکے، وہ اِس درجے تک پہنچ جائے کہ وہ حقیقت کو کسی دلیل کے بغیر پہچاننے لگے۔

اِس معاملے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وجدان کی سطح پر جو یقین حاصل ہوتا ہے، وہ ہمیشہ بڑھتا رہتاہے۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی غیر حقیقی چیز کبھی اضافہ پذیر نہیں ہوتی۔ واہمہ اور حقیقی وجدان میں یہ فرق ہے کہ واہمہ ہمیشہ بے ثبات ہوتا ہے۔ وہ صرف وقتی طورپر آدمی کو متاثر کرتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ ختم ہوجاتا ہے۔ اِس کے برعکس، اگر کسی شخص کی رسائی حقیقی وجدان تک ہوجائے تو اُس پر کبھی زوال نہیںآتا۔ حقیقی وجدان ہمیشہ ترقی کرتارہتا ہے، اس کے یقین کا سفر کبھی ختم نہیںہوتا، وہ ہمیشہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

واہمہ ایک مجہول چیز ہے، اس کی کوئی شعوری بنیاد نہیں۔ اِس کے برعکس، وجدان پوری طرح شعور پر مبنی ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجدان خود شعور کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ وہ شعور کی تکمیل ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو اس کا داخلی احساس خود بتا دے گا کہ کون سی بات صرف واہمہ ہے اور کون سی بات وجدانی علم سے تعلق رکھتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عقل اور وجدان دونوں تلاش کی منزلیں ہیں۔ آدمی کی عقل اُس کو وجدان تک پہنچاتی ہے اور وجدان اس کو حقیقت کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔ جو آدمی اِس اعلیٰ مرتبے تک پہنچتا ہے، اس کے لیے عقل اور وجدان کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ اس کی عقل مکمل طور پر وجدان ہوتی ہے، اور اس کا وجدان مکمل طورپر عقل۔ یہی وہ مقام ہے جس کو معرفتِ حق کا اعلیٰ درجہ کہاجاتا ہے۔

تاہم عقلی دریافت اور وجدانی دریافت میں یہ فرق ہے کہ عقلی دریافت ایک موضوعی دریافت (objective discovery) ہے۔ اِس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت کی حیثیت ایک داخلی دریافت (subjective discovery) کی ہے۔ اِس بنا پر دونوں دریافتوں کے درمیان بظاہر یہ فرق باقی رہتا ہے کہ عقلی دریافت ایک قابلِ مظاہرہ (demonstrable) دریافت ہے۔ اِس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت خارجی طورپر قابلِ مظاہرہ نہیں۔مگر یہ فرق کوئی حتمی فرق نہیں۔ جہاں تک صاحبِ وجدان کا معاملہ ہے، اس کے اپنے لیے دونوں قسم کی دریافتیں یکساں طورپر قابلِ یقین ہوتی ہیں، صرف اِس فرق کے ساتھ کہ ایک چیز کو وہ پیشانی کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور دوسری چیز کا مشاہدہ وہ دماغ کی آنکھ سے کرتا ہے۔

تاہم یہ فرق آخری فرق نہیں۔ ایک شخص جس کو حقیقی معنوں میں وجدانی دریافت ہو، وہ اِس کے نتیجے میں عام انسان سے واضح طورپر مختلف (different) بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا بولنا، اس کا سلوک، اس کے اخلاق، اس کے آداب واطوار، ہر چیز دوسرے انسانوں سے اتنا زیادہ مختلف ہوجاتے ہیںکہ وہ حقیقی معنوں میں ایک مختلف انسان (man with a difference) بن جاتاہے۔ اس کی شخصیت کا یہ فرق اہلِ نظر کے لیے وہی درجہ رکھتا ہے جس کو عقل اور منطق کی زبان میں دلیل کہاجاتاہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content