مسلم دنیا کے ایک مشہور عرب عالم کو ہندستان بلایا گیا۔ یہاں تین دن کے اندر اُن کے مختلف پروگرام ہوئے، دہلی میں بھی اور دہلی سے باہر بھی۔ اِن پروگراموں میں دہلی کے مسلمانوں کے علاوہ، اطراف کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
مذکورہ عرب عالم کا خصوصی پروگرام 27 مارچ 2011 کو دہلی کی شاہی جامع مسجد میں ہوا۔ یہاں انھوں نے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کے مجمع میں عربی زبان میں ایک تقریر کی۔ اُن کی اِس تقریر کی رپورٹ دہلی کے اردو اخبار راشٹریہ سہارا (28 مارچ 2011 ) میں چھپی ہے۔ اِس تقریر کا عنوان یہ ہے: ’’قرآن اور تعلیماتِ رسول میں مسلمانوں کے مسائل کا حل‘‘
یہ عنوان مذکورہ تقریر کا خلاصہ ہے۔مگر اِس تقریر میں مسلمانوں کے لیے کسی متعین راہِ عمل کی نشان دہی موجود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان پچھلے دو سو سال سے قرآن اور تعلیماتِ رسول کے نام پر بے شمار سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں۔ ہر مسجد، ہر مدرسہ، ہر مسلم ادارہ، ہر مسلم اسٹیج پر اِسی کا چرچا ہے۔ ایسی حالت میں، اصل سوال یہ نہیں ہے کہ قرآن اور تعلیماتِ رسول میں مسلمانوں کے مسائل کا حل موجود ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ قرآن اور تعلیماتِ رسول کے نام پر زبردست سرگرمیوں کے باوجود کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوئے۔
دو سوسال پہلے جس طرح مسلم رہنما ساری دنیا میں سازش اور ظلم کی بات کرتے تھے، آج بھی تمام مسلم رہنما ظلم اور سازش کی شکایت کررہے ہیں۔ ایسی حالت میں اصل کام ماضی کی مسلم سرگرمیوں کا تنقیدی جائزہ ہے، اور جب اِن سرگرمیوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ اِن مسلم رہنماؤں نے قرآن اور سنت کے نام پر پُرجوش تقریریں کیں، لیکن وہ صحیح راہِ عمل کی نشان دہی نہ کرسکے۔ یہصحیح راہِ عمل ہے — مسائل (problems) کا چرچا کرنے کے بجائے مواقع (opportunities) کو دریافت کرنا اور دانش مندی کے ساتھ اِن مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔