آج کل ’’عظمت‘‘ کے نام پر ہر جگہ شان دار کانفرنس ہورہی ہیں— عظمت اسلام کانفرنس، عظمتِ قرآن کانفرنس، عظمتِ رسول کانفرنس، عظمتِ صحابہ کانفرنس، وغیرہ۔ عظمت کے نام پر آج کل اِس قسم کی کانفرنسوں کی بہت زیادہ دھوم ہے۔ اِن مختلف کانفرنسوں کا اگر ایک مشترک نام دینا ہو تو وہ صرف ایک ہوگا، اور وہ ہے عظمتِ خویش کانفرنس۔ اِس قسم کی تمام کانفرنسیں دراصل دین کے نام پر اپنے دنیوی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ عین وہی برائی ہے جس سے یہود کو اِن الفاظ میں منع کیاگیا تھا: ولا تشتروا باٰیاتی ثمناً قلیلاً (2:41) ۔
دورِ زوال میں یہود کا یہ حال ہوگیا تھا کہ وہ دین کے نام پر دنیا حاصل کرنے لگے۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، آج یہی حال موجودہ مسلمانوں کا ہوچکا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کے یہاں دین کے نام پر بڑے بڑے نمائشی کام ہورہے ہیں، مگر حقیقت کے اعتبار سے، اُن کا نشانہ صرف یہ ہوتا ہے کہ دین کے نام پر دنیوی مقصد کو حاصل کیا جائے۔ مثلاً دولت، شہرت، عزت، عہدہ، اقتدار، وغیرہ۔
حدیث میں آیا ہے کہ قدیم اہلِ کتاب 72 فرقوں میں بٹ گئے اور امتِ مسلمہ 73 فرقوں میں بٹ جائے گی (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 4597 )۔ اِس روایت میں، 72 فرقہ اور 73 فرقہ کا لفظ علامتی ہے۔ اِس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ قدیم اہلِ کتاب میں 72 درجے کا بگاڑ آیا تھا اور امتِ مسلمہ میں 73 درجے کا بگاڑ آئے گا۔ دونوں کے درمیان اِس فرق کا سبب زمانی ہے۔ قدیم اہلِ کتاب کا زمانہ دورِ ترقی کے پہلے کا زمانہ ہے۔ اِس بنا پر اُن کے زمانے میں بگاڑ کے اسباب بہت محدود تھے۔ امتِ مسلمہ کا زمانہ ممتد (extend) ہو کر دورِ ترقی تک پہنچ جائے گا۔ اِس بنا پر اُس کے لیے بگاڑ کے اسباب بھی بہت زیادہ بڑھ جائیںگے۔ مثلاً قدیم اہلِ کتاب اسٹیج کی دھوم سے نا آشنا تھے۔ اب امتِ مسلمہ کے افراد کے لیے ممکن ہوگیا ہے کہ وہ دین کے نام پر اسٹیج کی دھوم مچائیںاور اُس کے بڑے بڑے دنیوی فائدے حاصل کریں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔