Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2011
Al-Risala July 2011

اسلامی رومانیت

Urdu · 2 min read

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے کیس کو اگر ایک لفظ میں بتانا ہو تو وہ غالباً اسلامی رومانیت (Islamic romanticism) ہوگا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان اِسی اسلامی رومانیت میں جی رہے ہیں— ماضی میں گزری ہوئی مسلم شخصیتوں کی کہانیاں، کشف وکرامات کے قصے، جہاد کے واقعات، مفروضہ معیاری نظام، وغیرہ۔ اِنھیں چیزوں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ذہن بنایا ہے۔ ان کی ہر مجلس میں اِس طرح کی باتوں کا چرچا ہوتاہے۔ ہر مسلمان یہ سوچتا ہے کہ قدیم پُرفخر سیاسی دور کس طرح دوبارہ واپس لایا جائے۔

اِس اسلامی رومانیت کی سب سے زیادہ تباہ کن مثال سیاسی رومانیت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے بہت سی سیاسی لڑائیاں چھیڑیں۔ یہ سیاسی لڑائیاں مختلف ملکوں میں وہاں کے اقتدار کے خلاف لڑی گئیں۔ اِن لڑائیوں کے دوران مسلمانوں میں عجیب وغریب قسم کی پراسرار کہانیاں پھیلائی جاتی رہیں۔ہر لڑائی میں پر اسرار طورپر فتح کی داستانیں پھیلائی جاتی رہیں، مگر آخر میں معلوم ہوا کہ ہر لڑائی یک طرفہ طورپر صرف مسلمانوں کی تباہی پر ختم ہونے والی تھی۔

یہ اسلامی رومانیت آج بھی مختلف صورتوں میں جاری ہے، مسلم اکثریت والے ملکوں میں بھی اور اُن ملکوں میں بھی جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں۔ اِسی رومانیت کو قرآن میںامانی (2: 78) کہاگیا ہے، یعنی خوش فہمیاں (wishful thinking) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی نہ کسی قسم کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ خوش فہمی کے اِس مزاج کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اُن کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ ختم ہوگئی ہے، وہ مفروضات میں جیتے ہیں،وہ تصوراتی دنیا میں اپنی خیالی دنیا تعمیر کرتے رہتے ہیں، وہ توہماتی عقائد کو اپنا سہارا بنائے ہوئے ہیں۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ مزاج دنیا کے اعتبار سے بھی ہلاکت خیز ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی ہلاکت خیز۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content