موجودہ زمانہ کے مشہور برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) کا ایک بیان اخبارات میں آیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا کہ — جنت یا زندگی بعد موت کا کوئی وجود نہیں، یہ سب پریوں کی کہانی ہے:
There is no heaven or afterlife, that is a fairy story. (The Times of India, N. Delhi, May 17, 2011, p. 19)
یہ سائنس داں کی زبان سے ایک غیر سائنسی بیان ہے۔ ایک شخص جو جنت کو نہ مانتا ہو، وہ سائنسی زبان میں صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ معلوم طبیعی قوانین کے مطابق، یہاں جنت کا کوئی وجود نہیں:
According to the known physical laws, Paradise has no existence.
مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سائنس کے جدید ترین مطالعے کے مطابق، کائنات کے مادّے کا صرف 5 فی صد حصہ ہمارے مشاہدے میں آتا ہے۔ کائنات کا بقیہ 95 فی صد مادّہ سرے سے قابلِ مشاہدہ (observable) ہی نہیں۔ ایسی حالت میں خالص سائنسی بیان یہ ہوگا کہ — قیاساً اِس دنیا میں جنت کا کوئی وجود نہیں:
Probably, Paradise has no physical existence.
سائنس (science) مطالعے کا ایک خصوصی طریقہ ہے۔ سائنس کی رسائی صرف اُن حقائق تک ہوتی ہے جو اس کی دور بین (telescope) یا خورد بین (microscope) کے مشاہدے میں آتے ہوں۔ جب خود سائنسی مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ممکن طورپر کائنات کے قابلِ مشاہدہ مادّے کا زیادہ بڑا حصہ موجودہ سائنسی آلات کے مطابق، قابلِ مشاہدہ نہیں۔ ایسی حالت میں، سائنس کے حوالے سے یہ کہنا بلا شبہہ ایک غیر سائنسی بیان ہے کہ — کائنات میں جنت کا کوئی وجود نہیں۔قدیم زمانے میں علمی بیان کی کوئی محدّد تعریف موجود نہ تھی، مگر موجودہ زمانے میں علمی بیان صرف اُس کو کہاجاتا ہے جو محدَّد زبان (specific language) میں ہو۔ اِس علمی تعریف کا لحاظ یقینا سائنس داں کو بھی کرنا ہے اور غیر سائنس داں کو بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔