حیدرآباد کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ الرسالہ کے دعوتی مشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ وہاں الرسالہ مطبوعات کے ذریعے دعوتی کام کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک دین دار مسلمان سے اِس سلسلے میں ان کی بات ہوتی تھی۔ مذکورہ مسلمان، الرسالہ مطبوعات کے سخت خلاف تھے۔ انھوںنے اِس مسئلے پر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سوچا۔ اِس کے بعد ایک بات ان کی سمجھ میں آئی۔ وہ مذکورہ دین دار مسلمان سے ملے اور ان سے کہا کہ یہاں کچھ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ وہ اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کے لیے آپ کوئی ایسی کتاب بتائے جو جدید اسلوب میں لکھی گئی ہو اور وہ ان کے ذہن کو مطمئن کرے۔ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے ایسی کسی کتاب کا علم نہیں۔ پھر انھوںنے اُن کو الرسالہ مطبوعات میں سے ’’اسلام اور عصر حاضر‘‘ مطالعے کے لیے دی۔ اِس کتاب کو پڑھ کر مذکورہ دین دار مسلمان بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اِس ادارے کی اور کتابیں ہمیں پڑھنے کے لیے دیجئے۔
اِسی طرح کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ الرسالہ مشن کے مذکورہ ممبر ایک مسلم لائبریری میں گئے۔ وہاں انھوں نے لائبریری کے ذمے دار سے کہا کہ آپ دوسرے اداروں کی کتابیں اپنے یہاں رکھتے ہیں، آپ کو چاہیے کہ آپ الرسالہ مطبوعات کو بھی اپنے یہاں رکھیں۔ ناظمِ کتب خانہ نے اِس مشورے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ جدید ذہن کو مطمئن کرنے والی کون سی کتابیں آپ کے کتب خانے میں ہیں۔ ناظم کتب خانہ نے کہا کہ ایسی کوئی کتاب ہمارے کتب خانے میں نہیں ہے۔ اِس کے بعد انھوں نے الرسالہ مطبوعات میں سے بعض کتابیں ان کو پڑھنے کے لیے دیں۔ اس کو پڑھ کر ناظمِ کتب خانہ کی رائے بدل گئی۔ انھوں نے کہا کہ جدید ذہن کے لیے یہ کتابیں بہت مفید ہیں، اور پھر اپنے کتب خانے میں الرسالہ کی تمام مطبوعات کو رکھنے کا فیصلہ کرلیا — اِسی کا نام حکیمانہ اسلوب ہے۔ کامیاب دعوتی عمل کے لیے حکیمانہ اسلوب بے حد ضروری ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.