اتحاد یا تضامن (unity) ہماری ایک اہم ضرورت ہے۔ پرنٹنگ پریس کے جدید دور میں غالباً سب سے زیادہ جس موضوع پر لکھا گیا ہے، وہ اتحاد ہے، براہِ راست طورپر یا بالواسطہ طورپر۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد موجود نہیں۔ اِس کا سبب کیا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے مذہب کے حوالے سے اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر ساری کوششوں کے باوجود ملت کے اندر اتحاد پیدا نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد ایک عملی ضرورت ہے، اور پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کے شعور ہی سے اتحاد پیدا کیا جاسکتا ہے۔
مذہب کے معاملے میں یکسانیت کبھی ممکن نہیں۔ مذہب کے پہلو سے ہمیشہ لوگوں میں اختلاف رہا ہے اور ہمیشہ اختلاف رہے گا۔ اِس لیے جب بھی مذہب کے حوالے سے اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اُس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ اختلاف میں مزید اضافہ ہوجائے، جیسا کہ بالفعل پیش آیا ہے۔ اتحاد کی بنیاد صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اِس عملی ضرورت کا گہرا شعور پیدا ہوجائے کہ اتحاد کے بغیر قرآن کے الفاظ میں، ان کی ہوا اکھڑ جائے گی (8: 46) ۔ مشہور مقولے کے مطابق، اتحاد کسی گروہ کو مستحکم کرتا ہے، اور اختلاف اس کے زوال کا باعث ہوتا ہے:
United we stand, divided we fall.
اتحاد کا واحد عملی فارمولا یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ اختلاف ایک فطری ظاہرہ ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ اِس لیے اختلاف کے باوجود مل کر رہنا سیکھو۔ اتحاد کے معاملے میں یہ چیز نقطۂ اتحاد نہیں بن سکتی کہ سب کی سوچ ایک ہوجائے۔ البتہ ایک اور چیز سب کے لیے نقطۂ اتحاد بن سکتی ہے، اور وہ مشترک مفاد (mutual interest) ہے۔ اتحاد ایک عملی ضرورت ہے اور اس کو عملی ضرورت کے حوالے ہی سے قائم کیا جاسکتا ہے۔ اِسی اصول کا نام ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) ہے۔ اور اِس معاملے میں ڈی لنکنگ پالیسی ہی واحد قابلِ عمل فارمولے کی حیثیت رکھتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔