ایک مفسر قرآن سے پوچھا گیا کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ — سرگزشتِ انذار۔ یہ بات جزئی طور پر درست ہے، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن سرگزشتِ دعوت ہے۔ انسانی تاریخ میں پیغمبروں کے ذریعے دعوتِ دین کا جو کام ہوا، قرآن اس کی براہِ راست یا بالواسطہ سرگزشت کا مجموعہ ہے۔ دعوت کا کام اصلاً خدائی پیغام کی پیغام رسانی کا کام ہے۔ مگر اس کام کی انجام دہی کے لیے خصوصی تائید ضروری ہے۔ اِس تائید کے تین بڑے دور ہیں:
1 - تائید دین بذریعہ معجزہ۔ 2 - تائید ِ دین بذریعہ سکینہ۔
3 - تائید ِ دین بذریعہ مذہبی آزادی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خدا کے جو پیغمبر آئے، اُن کی تائید اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے کی۔ ہر پیغمبر کو اپنے زمانے کے حالات کے اعتبار سے معجزہ دیاگیا۔ قرآن کے مطابق، پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس قسم کا حسّی معجزہ نہیں دیاگیا (17: 59) ، البتہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو خصوصی تائید کے طور پر وہ چیز دی گئی جس کو قرآن میںسکینہ (9: 26) کہاگیا ہے۔
سکینہ سے مراد سکونِ قلب (tranquility) ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دعوت کے راستے میں غیر معمولی قسم کے شدائد کا سامنا کرنا پڑا۔ بھوک، بائیکاٹ، جلاوطنی، قتال، وغیرہ۔ یہ شدائد اتنے زیادہ سخت تھے کہ عام انسان اُن کا تحمل نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کو خصوصی طورپر سکونِ قلب عطا کیا، جس کو خدائی سکون (divine calm) کہاجاسکتا ہے۔ اِسی خصوصی تائید کی بنا پر پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر اپنے مشن کی تکمیل کرسکے۔
تیسری تائید وہ ہے جو موجودہ زمانے کے اہلِ ایمان کو حاصل ہوئی ہے۔ یہ مذہبی آزادی (religious freedom) کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے جو موجودہ زمانے میں عالمی طورپر حاصل ہوا ہے۔ اب دعوت کا کام کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے بغیر آزادانہ طورپر انجام دیاجاسکتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔