فقہاء کا یہ ماننا ہے کہ اسلامی شریعت کے مصادر (sources) چار ہیں — قرآن، سنت، اجماع، قیاس، مگر یہ درست نہیں۔ یہ نظریہ تمام تر ذاتی قیاس کی بنیاد پر بنایاگیا ہے۔ قرآن اور سنت کی بنیاد پر اگر مصادرِ شریعت کو متعین کیا جائے تو وہ صرف تین ہوں گے۔ پہلا دو مصدر تو واضح طورپر قرآن اور سنت ہے۔ جہاں تک تیسرے مصدر کا تعلق ہے، اس کے لیے قرآن میں استنباط (4: 83) اور حدیث میں اجتہاد (صحیح البخاری) کا لفظ آیا ہے۔ نص کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اصلاً اسلامی شریعت کے یہی تین مصادرہیں۔ اِن کے سوا کسی چوتھے مصدر کا اضافہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بدعت ہے، اس کی کوئی منصوص بنیاد نہیں۔
عام طورپر فقہاء نے اجماع (consensus) کو شریعت کا ایک مستقل مصدر قرار دیا ہے، مگر یہ یقینی طورپر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ شریعت کا مستقل مصدر صرف کوئی نصِ قطعی ہوسکتا ہے۔ نص قطعی کی غیر موجودگی میں کسی چیز کو شریعت کا مستقل مصدر قرار دینا، یقینی طورپر ایک بے بنیاد بات ہے۔ اجماع کی بلاشبہہ ایک اہمیت ہے، لیکن وہ اہمیت صرف یہ ہے کہ کسی خاص موقع پر اجماع کسی پیش آمدہ مسئلے کا ایک عملی حل ہوتاہے۔ یہ حل یقینی طورپر ایک وقتی حل ہوتا ہے، نہ کہ شریعت کا ابدی مصدر۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک بے حداہم بات ہے۔ ضرورت ہے کہ اہلِ علم اِس موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور پورے معاملے پر نظر ثانی کرتے ہوئے دوبارہ اس مسئلے کی ایسی تشریح کریں جو ایک طرف قرآن وسنت کے نصوص کے مطابق ہو۔ اور دوسری طرف اُس میں دورِ جدیدکے بدلے ہوئے حالات میں مسلمانوں کے لیے قابلِ عمل رہنمائی موجودہو۔ آج کی ایک ضرورت یہ ہے کہ اسلام کے تعلق (relevance) کو جدید دور کی نسبت سے ثابت کیا جائے، اور یہ کام مذکورہ معاملے کی تشریح کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے بہت سے فکری مسائل کا حل اِس معاملے کی تشریحِ نو سے منسلک ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔