Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2011
Al-Risala July 2011

مصادرِ شریعت

Urdu · 2 min read

فقہاء کا یہ ماننا ہے کہ اسلامی شریعت کے مصادر (sources) چار ہیں — قرآن، سنت، اجماع، قیاس، مگر یہ درست نہیں۔ یہ نظریہ تمام تر ذاتی قیاس کی بنیاد پر بنایاگیا ہے۔ قرآن اور سنت کی بنیاد پر اگر مصادرِ شریعت کو متعین کیا جائے تو وہ صرف تین ہوں گے۔ پہلا دو مصدر تو واضح طورپر قرآن اور سنت ہے۔ جہاں تک تیسرے مصدر کا تعلق ہے، اس کے لیے قرآن میں استنباط (4: 83) اور حدیث میں اجتہاد (صحیح البخاری) کا لفظ آیا ہے۔ نص کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اصلاً اسلامی شریعت کے یہی تین مصادرہیں۔ اِن کے سوا کسی چوتھے مصدر کا اضافہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بدعت ہے، اس کی کوئی منصوص بنیاد نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عام طورپر فقہاء نے اجماع (consensus) کو شریعت کا ایک مستقل مصدر قرار دیا ہے، مگر یہ یقینی طورپر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ شریعت کا مستقل مصدر صرف کوئی نصِ قطعی ہوسکتا ہے۔ نص قطعی کی غیر موجودگی میں کسی چیز کو شریعت کا مستقل مصدر قرار دینا، یقینی طورپر ایک بے بنیاد بات ہے۔ اجماع کی بلاشبہہ ایک اہمیت ہے، لیکن وہ اہمیت صرف یہ ہے کہ کسی خاص موقع پر اجماع کسی پیش آمدہ مسئلے کا ایک عملی حل ہوتاہے۔ یہ حل یقینی طورپر ایک وقتی حل ہوتا ہے، نہ کہ شریعت کا ابدی مصدر۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک بے حداہم بات ہے۔ ضرورت ہے کہ اہلِ علم اِس موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور پورے معاملے پر نظر ثانی کرتے ہوئے دوبارہ اس مسئلے کی ایسی تشریح کریں جو ایک طرف قرآن وسنت کے نصوص کے مطابق ہو۔ اور دوسری طرف اُس میں دورِ جدیدکے بدلے ہوئے حالات میں مسلمانوں کے لیے قابلِ عمل رہنمائی موجودہو۔ آج کی ایک ضرورت یہ ہے کہ اسلام کے تعلق (relevance) کو جدید دور کی نسبت سے ثابت کیا جائے، اور یہ کام مذکورہ معاملے کی تشریح کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے بہت سے فکری مسائل کا حل اِس معاملے کی تشریحِ نو سے منسلک ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content