قدیم زمانے میں جب یہود پر سیاسی زوال آیا تو اُن کے اندر یہ مزاج پیداہوا کہ وہ لڑکر دوبارہ اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔ اُس وقت، بائبل کے بیان کے مطابق، یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے اُن سے کہا— بادشاہ اور اس کی والدہ سے کہو کہ عاجزی کرو اور نیچے بیٹھو، کیوں کہ تمھاری بزرگی کا تاج تمھارے سر پر سے اتار لیا گیا ہے:
Say to the king and to the queen mother, “Humble yourselves; sit down, for your rule shall collapse, the crown of your glory.” (Jeremiah 13: 18)
یہاں یہود کی مثال کی صورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قوموں پر عروج کے بعد زوال آتا ہے، سیاسی بالادستی کے بعد انھیں سیاسی زیردستی کا تجربہ پیش آتا ہے۔ یہ معاملہ قانونِ فطرت کے تحت پیش آتا ہے۔ اُس وقت قوم کو چاہیے کہ وہ اِس تبدیلی کو تسلیم کرے۔ کیوں کہ اُس وقت اِس تبدیلی کو تسلیم نہ کرنا اپنے آپ کو مزید تباہی کی طرف لے جانے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ سیاسی اقتدار (political power)کسی گروہ کی قومی اجارہ داری (monopoly)نہیں۔ سیاسی اقتدار کا حصول اس کی ضروری اہلیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ قوم کے اندر جب تک صلاحیت پائی جائے، سیاسی اقتدار بھی اُس کو حاصل رہے گا۔ صلاحیت کے فقدان کے بعد سیاسی اقتدار بھی اس سے چھن جائے گا۔ جب ایسا ہو تو قوم کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اپنے اندر ضروری صلاحیت پیدا کرے، نہ کہ وہ فریق ثانی کے خلاف بے فائدہ جنگ چھیڑ دے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ما بقوم میں تغیر ہمیشہ مابأنفس میں تغیر کا نتیجہ ہوتا ہے (13:11) مابقوم سے مراد اجتماعی حالت ہے، اور ما بأنفسسے مراد انفرادی حالت۔ جب بھی کسی قوم کی اجتماعی سطح پر زوال آئے تو اس کو اپنے افراد کی سطح پر اس کا سبب ڈھونڈنا چاہیے۔ کیوں کہ قوم کے افراد کی حالت کو بدلنے کے بعد ہی قوم کی اجتماعی حالت بدل سکتی ہے، اس کے بغیر ہر گز نہیں— عمل کا آغاز افراد کی سطح سے ہوتا ہے، نہ کہ اجتماع کی سطح سے۔اجتماع کی سطح پر جو آغاز ہوتا ہے، وہ صرف لیڈری ہے، نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔