قرآن کی سورہ الانفال میں ارشاد ہوا ہے: یٰاأیہا الذین آمنوا إن تتّقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً (8: 29) یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ سے ڈرو تو اللہ تمھارے لیے ایک فرقان بہم پہنچا دے گا۔
اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا صحیح فہم کسی آدمی کو اُس وقت ملتا ہے، جب کہ اس کو اللہ کی معرفت اتنی گہرائی کے ساتھ حاصل ہو کہ وہ اللہ سے ڈرنے لگے، وہ اللہ کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط (mindful) بن جائے۔ جب آپ کسی معاملے کی علمی تشریح کریں تو اُس میں ڈر شامل نہیں ہوتا۔ آپ کی نفسیات یہ نہیں ہوتی کہ اگر میں نے غلط تشریح کردی تو میں سخت طورپر خدا کی پکڑ میں آجاؤں گا۔ لیکن جب آپ کے اندر متقیانہ ذہن پیدا ہوجائے تو آپ کا احساس یہ ہوتا ہے کہ میں اِس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ میں کسی دینی امر کا مفہوم اِس طرح بیان کروں جو ادنیٰ درجے میں بھی حق سے ہٹا ہوا ہو:
I can not afford slightest deviation from the right meaning.
مذکورہ آیت میں فرقان کا لفظ آیا ہے۔ فرقان کے لفظ میں فرق کا مفہوم مبالغے کے ساتھ شامل ہے۔ اِس کا مطلب ہے دو چیزوں کے درمیان فرق (differentiate) کرنے کی گہری صلاحیت (الفصل بین الشیئین)۔ اِس صلاحیت کا ایک درجہ یہ ہے کہ آدمی علمی بنیاد پر فرق کرنا جانتا ہو۔ لیکن یہ صرف ایک ابتدائی بنیاد ہے۔ فرق کرنے کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر داخلی بصیرت کے درجے میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔ اِسی کا نام فرقان ہے۔ ایسے آدمی کے لیے دین کی صحیح تشریح کرنے کا معاملہ ذاتی نجات کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ دین کی ایسی تشریح کرے جو آخر کار اللہ کے سامنے رد(reject) ہوجانے والی ہو۔ جو آدمی دین کی تشریح میں محتاط ہو، وہ لازمی طورپر دینی عمل میں بھی آخری حد تک محتاط ہوجائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔