قرآن کی سورہ الفرقان میں اہلِ ایمان کے ساتھ پیش آنے والے ایک معاملے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے:اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰۗىِٕکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَـیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ۭ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (25:70) یعنی، مگر جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا- اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے-
قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ فرمانِ خداوندی کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ قانونِ خداوندی کی بات ہے- یعنی انسان جب ایمان اور عمل صالح اور توبہ کی زندگی اختیار کرتا ہے، اور اس دوران اس سے کسی سیئہ (evil deed)کا صدور ہوتا ہے تو قانون فطرت کے مطابق اس کے اوپر ایسی کیفیات گزرتی ہیں جس کے نتیجے میں اس کا سیئہ (evil deed) اس کے لیے حسنہ (good deed) کی صورت اختیار کرلیتاہے-
اس آیت میں اس انسان کا ذکر ہے جس کو معرفت کے درجہ میں ایمان حاصل ہوا- اس کا یہ ایمان اتنا طاقت ور تھا کہ اس کی زندگی میں ایک عملی انقلاب آگیا- ایسے آدمی سے اگر کبھی انسانی کمزوری کی بنا پر کسی برائی کا صدور ہوگا تو یہ اس کے لیے کوئی سادہ بات نہ ہوگی- بہت جلد ایسا ہوگا کہ اس کے اندر شدید ندامت (repentance) کا جذبہ پیداہوگا- وہ یہ سوچ کر تڑپ اٹھے گا کہ مجھ سے اپنے رب کے معاملے میں تفریط کا معاملہ ہوگیا ( 39:56)-
ایسا آدمی برائی کے صدور کے بعد تڑپے گا، وہ روئے گا، وہ دعائیں کرے گا، برائی کا احساس اس کی شخصیت میں ایک زلزلہ پیدا کردے گا- اس کی رات اور اس کے دن توبہ کی کیفیات میں گزرنے لگیں گے- اِن چیزوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرے گی، اس کے اندر ایک عزم بیدار ہوگا، اس کے تعلق باللہ میں ایک نیا دور آجائے گا- یہی وہ واقعہ ہے جس کو مذکورہ آیت میں تبدیل سیئہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔