قرآن کا مطلوب کلچر، امن کلچر ہے- یہ بات قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتی ہے: الصُّلْحُ خَیْر (4:128) یعنی صلح بہتر ہے- اس آیت میں صلح کا لفظ باعتبار نتیجہ ہے- صلح (reconciliation) ایک تدبیر ہے- اس کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ فریقین کے درمیان امن کی حالت قائم ہوجاتی ہے، اورامن کے لازمی نتیجہ کے طورپر مواقع (opportunities)کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں-
اجتماعی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت، مواقع کی ہوتی ہے- تمام مقاصد، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی، ہمیشہ موجودمواقع کو استعمال (avail) کرکے حاصل ہوتے ہیں- فقہ کا ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ مالا یتم الواجب إلا بہ فہو واجب (موسوعة الفقہیة، کویت: 1/73) یعنی جس چیز کے بغیر واجب کی ادائیگی نہ ہو سکے، وہ بھی واجب ہے-
انسان ہمیشہ کسی مجتمع (society) کے اندر رہتا ہے- کوئی شخص کسی شرعی مقصد کی تکمیل صرف اس وقت کرسکتا ہے، جب کہ سماج کے اندر امن کا ماحول ہو- امن کے بغیر کسی مقصد کی تکمیل عملاً ممکن نہیں- شرعی مقصد کی حیثیت اگر فرض کی ہے تو امن کی حیثیت وسیلہ کی- مذکورہ اصول کے مطابق اہلِ ایمان کے اوپر فرض ہے کہ وہ ہمیشہ سماج کے اندر امن کا ماحول قائم رکھیں- مگر امن کا مسئلہ نفاذ (implementation) کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان آخری حد تک امن مخالف سرگرمی سے اپنے آپ کو بچائیں-
یہ ایک عظیم حکمت (wisdom)کی بات ہے- اس حکمت کو ملحوظ رکھنے پر ہی تمام کامیابیوں کا انحصار ہے- جس طرح ایک شرعی فریضہ اہلِ ایمان کی ذاتی ذمہ داری ہوتی ہے اسی طرح یکساں طورپر اہلِ ایمان کی یہ بھی ذاتی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قیمت پر امن کا ماحول برقرار رکھیں (establishing peace at any cost) - اس معاملے میں وہ کسی بھی عذر کو عذر نہ بنائیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔