Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala January 2015
Al-Risala January 2015

عمل بقدر استطاعت

Urdu · 1 min read

قرآن کی سورہ التغابن میںایک حکم ان الفاظ میں دیاگیا ہے:فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِکُمْ ۭ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ( 64:16) یعنی پس تم اللہ سے ڈرو جہاں تک ہوسکے، اور سنو اور مانو اور خرچ کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اور جو شخص دل کی تنگی سے محفوظ رہا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’عمل بقدر استطاعت‘‘ کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے- زندگی کا یہی واحد فطری اصول ہے- انسان جب دنیا میں کوئی عمل کرنا چاہتا ہے تو یہ ہمیشہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہوتاہے- انسان اتنا ہی کرسکتاہے، جتنا خارجی حالات اس سے موافقت کریں- خارجی حالات کی موافقت کے بغیر کوئی شخص کوئی کام نہیں کرسکتا-

اپنی ذات کے لیے آدمی صد فی صد کی اصطلاح (term) میں سوچ سکتا ہے، لیکن جب معاملہ سماج کا ہو تو عملاً یہ ممکن نہیں ہوتا کہ آدمی صد فی صد کو اپنا نشانہ بنائے- اس لیے اس دنیا کے لیے فطری اصول یہ ہے کہ— اپنی ذات کے معاملے میں معیار پسند بنئے اور سماج کے معاملے میں عملی امکان کے مطابق منصوبہ بنائیے:

Idealism at individual level, Pragmatism at social level.

اپنی ذات کے معاملے میں آدمی کو خود سوچنا ہے، اور خود ہی اس کو اپنی زندگی میںاختیار کرنا ہے- اس لیے انفرادی معاملے میں معیار پسندی ممکن ہوتی ہے، مگر جب معاملہ سماجی یا اجتماعی ہو تو کسی کے لیے اتنا ہی کام کرنا ممکن ہوتاہے، جتنا دوسرے لوگ اس سے موافقت کریں- اس لیے ضروری ہے کہ جب معاملہ سماج کا ہو تو آدی پریگمیٹک (pragmatic) بن جائے- اس کے خلاف کرنے کا نتیجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتاہے— مقصد تو حاصل نہ ہو، البتہ لوگوں کے اندر ایسا ٹکراؤ شروع ہوجائے جو کبھی ختم نہ ہوسکے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content