قرآن کی سورہ الغاشیہ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے: فَذَکِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَکَفَرَ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ اِنَّ اِلَیْنَآ اِیَابَہُمْ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَہُمْ (88:21-26) یعنی پس تم یاددہانی کرو، تم صرف یاددہانی کرنے والے ہو- تم ان پر داروغہ نہیں- مگر جس نے روگردانی کی اور انکار کیا- تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا- ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے- پھر ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا-
قرآن کی اس آیت کا خطاب صرف پیغمبر سے نہیں ہے، بلکہ اس کا خطاب ہرداعی سے ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت آخری حدتک ایک پرامن نصیحت کا نام ہے، نہ کہ حاکمانہ طورپر کسی نظریہ کو نافذ کرنے کا نام- اس حقیقت کو حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے دور کے ایک عامل کے نام ایک خط میں اس طرح لکھا تھا: ان اللہ إنما بعث محمدا صلى اللہ علیہ وسلم داعیا، ولم یبعثہ جابیا(البدایة والنہایة لابن کثیر، 9/188) یعنی اللہ نے بے شک اپنے پیغمبر کو داعی بنا کر بھیجا ہے، اس نے پیغمبر کو ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا-
پیغمبر کا مشن، پرامن دعوت کا مشن ہے- پیغمبر کے مشن کا تعلق نہ سیاست سے ہے اور نہ حکومت سے-پیغمبر کا مشن یہ ہے کہ پرامن طریقہ کار کے ذریعہ لوگوں کو بتایا جائے کہ موجودہ دنیا میں ان کو کس قسم کی زندگی گزارنی چاہئے، جو ان کی آخرت کی زندگی کو کامیاب کرنے والی ہو- جس کے نتیجہ میں وہ دنیا میں اللہ کی مدد کے مستحق قرار پائیں، اور آخرت میں ان کو جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے- جہاں وہ ابدی طورپر حزن اور خوف سے پاک زندگی گزاریں- پیغمبر کا مشن قرآن کے الفاظ میں انذار اور تبشیر کا مشن ہے، یعنی اللہ کی پکڑ سے بچانا اور اللہ کے انعام کی خوش خبری دینا- پیغمبر کا مشن اصلاً دنیا میں کوئی سیاسی نظام قائم کرنے کا مشن نہیں ہے- پیغمبر کا مشن افراد کو ایڈریس کرنے کا مشن ہے- پیغمبر کا مشن یہ ہے کہ ہر فرد اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کے مطابق بنائے، تاکہ وہ ابدی طور پر اللہ کی رحمتوں کا مستحق قرار پائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔