کسی مقصد کے حصول کے لیے قرآن کا بتایا ہوا طریقہ کیا ہے، یہ بات قرآن کی سورہ النحل کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَاَتَى اللّٰہُ بُنْیَانَہُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَــرَّ عَلَیْہِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِہِمْ وَاَتٰىہُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ ( 16:26) یعنی ان سے پہلے والوں نے بھی تدبیر یں کیں- پھر اللہ ان کی عمارت پر بنیادوں سے آیا، پس چھت اوپر سے ان کے اوپر گر پڑی اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا-
Those who were before them did also plan, but Allah came upon their structure at the very foundations, so that the roof fell down upon them from above them; and the punishment came upon from where they knew not.
اس آیت میں تمثیل کے اسلوب میں بتایا گیا ہے کہ مقصد کے حصول کا موثر طریقہ کیا ہے- وہ یہ کہ عمارت کے ظاہری ڈھانچے کو نشانہ نہ بنایا جائے، بلکہ اس کی بنیاد پر عمل کیا جائے- اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 ء میں مکہ میں توحید کا مشن شروع کیا- اس وقت کعبہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے ـتھے، مگر پیغمبر اسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی پر کوئی احتجاج نہیں کیا، اور نہ بتوں کو توڑنے کی کوشش کی-
آپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ کیا کہ پرامن طور پر نظریہ توحید کی اشاعت شروع کردی- دوسرے لفظوں میں یہ کہ عمارت کو مظاہر شرک سے پاک کرنے کے بجائے دلوں کو شرک سے پاک کرنا- جس کو قرآن میں تطہیر ثیاب ( 74:4) کہاگیا ہے- یہ تدبیر کامیاب ہوئی اور 20 سال سے بھی کم مدت میں پرامن طورپر کعبہ بتوں سے پاک ہوگیا— یہی اصول کسی معاملہ میں حقیقی کامیابی حاصل کرنے کا فطری طریقہ ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔