قرآن میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے یہ حکم دیاگیا ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ (6:108) یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو سب وشتم نہ کرو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو سب وشتم کرنے لگیں گے-
قرآن کی اِس آیت میں ایک اہم اجتماعی اصول بتایا گیاہے-وہ یہ کہ اہلِ ایمان کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ دوسروں کے برے سلوک کی شکایت کریں، بلکہ انھیں یہ کرنا چاہئے کہ وہ شکایت کے اسباب کو اپنی طرف سے ختم کردیں- ایسے معاملات میں اہلِ ایمان احتساب غیر کے بجائے احتساب خویش کا طریقہ اختیار کریں، وہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے اپنے حصے کی غلطی کو تلاش کریں، اور وہ اس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوجائیں-
شکایت کوئی یک طرفہ رویہ نہیں- جب بھی کوئی شحص یا گروہ دوسرے کی شکایت کرتاہے تو ایسی ہر شکایت کے پیچھے ہمیشہ کوئی رد عمل کا واقعہ ہوتاہے- اس معاملہ میں قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ — تم اپنی طرف کے عمل (action) سے بچو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم فریقِ ثانی کے رد عمل (reaction) سے بچ جاؤگے-قرآن کی اس ہدایت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب بھی تم کو کسی سے شکایت ہو تو ایسا مت کرو کہ تم فوراً دوسرے کے خلاف شکایت کا ہنگامہ کھڑا کردو- اس کے بجائے تم کو یہ کرنا چاہئے کہ خود اپنے اندر ان اسباب کو تلاش کرو، جو براہِ راست یا بالواسطہ طورپر فریق ثانی کی اِس روش کا سبب بن رہےہیں-
اجتماعی زندگی میں اصلاح کا یہی واحد طریقہ ہے— اپنے حصہ کی غلطی کو درست کرو- دوسرا فریق اپنے آپ اپنے حصہ کی غلطی کی اصلاح کرلے گا- اجتماعی زندگی میں ہر قابل شکایت بات کسی اشتعال کی بنا پر پیدا ہوتی ہے- ضرورت ہے کہ اجتماعی زندگی میں نگرانی کا یہ ماحول موجود ہو کہ کوئی فرد اشتعال انگیزی کی کوئی کارروائی نہ کرنے پائے- یہی وہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے کسی سماج میں امن کا ماحول قائم ہوتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔