قرآن کی سورہ آل عمران میں اہلِ ایمان کی زندگی کا نقشہ ان الفاظ میں بتایا گیا: کونوا ربانیین (3:79) یعنی تم ربانی زندگی اختیار کرو(adopt Rab oriented life) -
انسان کی زندگی اس کے ذہن (mind) کے تحت ہوتی ہے- کوئی انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی وہ کرتاہے- اس اعتبار سے ہر عورت اور مرد کا ایک نقطہ نظر (way of thinking) ہوتا ہے- یہی نقطہ نظر اس کی زندگی میں مرکزی رول ادا کرتاہے- کونوا ربانیین کا مطلب یہ ہے کہ رب رخی (Rab oriented) زندگی اختیار کرو، تمھاری سوچ کا فوکس صرف ایک رب العالمین ہو-
آیت میں یہ نہیں کہاگیا ہے کہ دنیا میں ربانی نظام قائم کرو، بلکہ یہ کہاگیا ہے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے ربانی زندگی اختیار کرو- یہ ایک انفرادی حکم ہے، جو ہر عورت اور مرد سے مطلوب ہے، اس کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں-
ربانی زندگی آدمی کے ذہن سے شروع ہوتی ہے- آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ مطالعہ اور تدبر کے ذریعہ زندگی کی حقیقت کو دریافت کرے، وہ رب العالمین کی اعلی معرفت حاصل کرے، وہ اپنی زندگی کو خدائی معیار کے مطابق بامقصد زندگی بنائے، وہ اپنی پوری زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ دے-
ربانی زندگی کی اساس ہمیشہ معرفت خداوندی پر قائم ہوتی ہے- ربانی زندگی میں کسی انسان کا واحد کنسرن (sole concern)یہ ہوتاہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق سوچے، وہ اللہ کی مرضی کے مطابق بولے، اس کا پورا کردار اللہ کی مرضی میں ڈھلا ہوا ہو، یہ اصول اس کی زندگی کا رہنما اصول بن جائے کہ اس کو اپنے ہر قول اور اپنے ہر عمل کا جواب آخرت میں دینا ہے، جہاں اللہ کی عدالت قائم ہوگی- دنیا کے نقصان کے بجائے آخرت کا نفع نقصان اس کی توجہات کا مرکز بن جائے-
ربانی زندگی سے مراد کوئی ظاہری شکل وصورت کا نام نہیں- ربانی زندگی اسپرٹ پر مبنی زندگی کا نام ہے، نہ کہ کسی فارم یا وضع قطع پر مبنی زندگی کا نام-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔