قرآن کی ایک آیت میں امت محمدی کی ذمہ داری کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ۭ (2:143) یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنادیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا-
قرآن کی اس آیت میں امت محمدی کی نیابتی حیثیت کو بتایا گیاہے- ختم نبوت کے بعد امت محمدی مقام نبوت پر ہے- اس کی حیثیت امت وسط، بیچ کی امت (middle ummah) کی ہے، یعنی قرآن وسنت کی صورت میں اس کو جو دین پیغمبر اسلام سے ملا ہے، اس کو وہ قیامت تک تمام انسانوں تک پہنچاتی رہے-
یہ در میانی رول امت محمدی کی لازمی ذمہ داری ہے- اسی رول کی ادائیگی پر امت محمدی کا امت محمدی ہونا متحقق ہوتاہے- اگر امت محمدی اپنا یہ رول ادا نہ کرے تو اس کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہوجائے گا- یہی دعوتی رول امت محمدی کا اصل منصبی فریضہ ہے- کوئی دوسرا کام، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیاگیا ہو، وہ اس رول کا بدل نہیں بن سکتا-
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس رول کے تقاضے کو پوری ذمہ داری کے ساتھ اداکیا جائے- مثلاً ہمیشہ مدعو کا خیر خواہ بنے رہنا، مدعو کے ساتھ حریفانہ کش مکش سے کامل طورپر پرہیز کرنا، قرآن وسنت کے پیغام کو اس طرح پیش کرنا جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، مدعو سے کسی حال میں اجر کا طالب نہ ہونا، مدعو کے ساتھ کسی بھی قسم کی مطالباتی مہم کو کامل طورپر ترک کردینا، اپنے اور مدعو کے درمیان ہر قیمت پر امن کا ماحول قائم رکھنا، وغیرہ- اسی دعوتی ذمہ داری کی ادائیگی پر امت محمدی کے مستقبل کا انحصار ہے- اسی پر دنیا میں بھی ان کے لیے کامیابی ہے اور اسی پر آخرت میں بھی ان کے لیے کامیابی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔