قرآن کی سورہ الذاریات میں تخلیق کے اصول کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے:وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ( 51:49) یعنی اور ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو-
مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز، خواہ وہ مادی ہو یا غیر مادی، اس کا ایک زوج (pair) موجود ہے- جیسے مادی ذرات میں پازیٹو پارٹیکل کے ساتھ نیگیٹو پارٹیکل، نباتات میں میل پلانٹ (male plant) کے ساتھ فیمیل پلانٹ(female plant)، حیوانات میں ہی انیمل (he animal) کے ساتھ شی اینمل(she animal) موجود ہیں- اسی طرح انسان کی دنیا میں بھی عورت کے ساتھ مرد پیدا کیے گیے ہیں-
مگر انسان کا معاملہ دوسری مخلوقات سے مختلف ہے- انسان کے لیے زوجین کی پیدائش کافی نہیں- انسان اس کے سوا بھی ایک اور چیز کا طالب ہے- انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے زوجین کے سوا ایک اور چیز چاہتا ہے- اس کو دوسرے الفاظ میں انسان کا فطری ہیبی ٹیٹ (habitat) کہاجاسکتاہے- موجودہ دنیا انسان کے لیے اس کا ہیبی ٹیٹ نہیں- انسان ہر اعتبار سے ایک کامل دنیا چاہتا ہے، مگر موجودہ دنیا کسی بھی اعتبار سے کامل دنیا نہیں-
اس دنیا میں انسان کے سوا جو چیزیں ہیں، ان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے اور دنیا کے درمیان کامل مطابقت پائی جاتی ہے- لیکن انسان کا معاملہ مختلف ہے، انسان اور دنیا کے درمیان مطابقت موجود نہیں- یہ عدم مطابقت پوری کائنات میں ایک استثنائی واقعہ ہے- انسانی زندگی کا یہ استثنائی پہلو تقاضا کرتاہے کہ انسان کو اس کی مطلوب دنیا حاصل ہو- اسی مطلوب دنیا کا نام جنت ہے جو انسان کے لیے اس کے مطلوب مسکن کی حیثیت رکھتی ہے- جنت کا امکان اپنے آپ میں جنت کے وجود کا ثبوت ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔