قرآن میںاہلِ جنت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیاہے:جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا ۭ وَذٰلِکَ جَزٰۗؤُا مَنْ تَزَکّٰى ( 20:67) یعنی ان کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی- وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جو اپنا تزکیہ کرے- قرآن کی اِس آیت کے مطابق، جنت ان افراد کے لیے ہے، جو اپنے اندر پاکیزہ شخصیت کی تعمیرکریں:
Paradise is for purified soul
تزکیہ سے مراد کوئی پراسرار عمل نہیں ہے- تزکیہ ایک معلوم واقعہ ہے- قرآن میں جس تزکیہ کا ذکر ہے، وہ پراسرار معنوں میں کوئی دل پر مبنی (heart based) عمل نہیں، بلکہ وہ ایک مبنی برذہن (mind based) عمل ہے- تزکیہ ایک مسلسل شعوری عمل ہے، جس کے ذریعہ آدمی مسلسل غوروفکر کے ذریعہ اپنے ذہن کی تعمیر نو (re-engineering of mind)کرتا ہے-
انسان کےاندر غیر معمولی فکری صلاحیت پائی جاتی ہے- ایمان آدمی کے اندر اس فکری صلاحیت کو بیدار کرتاہے- ایمان کے بعد آدمی کے اندر ایک زندہ شعور جاگتا ہے، جس کے تحت وہ فکر وتدبر کی ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے، وہ ہر قسم کی ذہنی سرگرمیوں کے ذریعہ اپنے شعور کو ارتقا یافتہ شعور بناتاہے- وہ اپنی شخصیت کو ایک اعلیٰ ربانی شخصیت میں تبدیل کرتاہے-
کسی انسان کو جنت میں داخلہ مقداری عمل کی بنیاد پر نہیں ملے گا بلکہ جنت صرف اس انسان کو ملے گی، جس نے باعتبار کیفیت (in terms of quality) اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا- یہی جنت میں داخلہ کی شرط ہے- مزید یہ کہ جنت میں داخلہ بربنائے استحقاق ہوگا، نہ کہ بربنائے سفارش-تزکیہ کا تعلق کسی محدود مدتی کورس سے نہیں ہے، تزکیہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے، جو انسان کی پوری زندگی میں کسی وقفہ کے بغیر جاری رہتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔