قرآن کی سورہ نمبر 2 کی شروع کی آیات یہ ہیں: ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ٻ فِیْہِ ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (البقرة: 2-3 ) یعنی یہ اللہ کی کتاب ہے- اِس میں کوئی شک نہیں- یہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے، جو ایمان لاتے ہیں غیب پر- قرآن کی اِس آیت میں ایمان بالغیب کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی زبان سے آمنتُ بالغیب کہہ دے، بلکہ یہ ہےکہ آدمی غیب کے بارے میں عقلی طورپر (rationally) اُسی طرح یقین کرسکے جس طرح وہ شہود پر یقین کرتاہے-
غیب پر ایمان لاناایک اعلیٰ ذہنی ارتقا (high level of intellectual development) کا معاملہ ہے- ایک انسان اپنی فطری طاقتوں کو استعمال کرتا ہے، وہ اپنے بارے میں اور کائنات کے بارے میں مسلسل طورپر غور وفکر کرتا ہے، وہ کتاب وسنت کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے، وہ زندگی کے تجربات اور مشاہدات سے مسلسل طورپر گہرا سبق لیتا رہتا ہے، وہ خدا کی نشانیوں (آیات) پر غور کرکے تخلیق کے گہرے رموز تک پہنچنے کی کوشش کرتاہے- اس طرح اس قابل ہوجاتا ہے کہ اپنے ذہنی ارتقا کی بنا پر وہ نہ دکھائی دینے والی چیزوں پر بھی اسی طرح یقین کرسکے، جس طرح کوئی شخص دکھائی دینے والی چیزوں پر یقین کرتا ہے-
غیب (unseen) پر ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیب پر ایمان نہیں ہے، بلکہ وہ یہ ہے کہ آدمی کی تفکیری صلاحیت اتنی زیادہ بلند ہوجائے کہ اس کے لیے غیب اور شہود میں کوئی فرق باقی نہ رہے- وہ غیبی حقیقتوں کو اتنی گہرائی کے ساتھ دریافت کرلے کہ اپنے شعور کے اعتبار سے اس کے لیے ان حقیقتوں کو نہ ماننابالکل غیر ممکن ہوجائے- ایمان بالغیب دراصل غیب کو ماننے کا نام نہیں بلکہ وہ شعور کا وہ ارتقائی درجہ ہے، جہاں باعتبار حقیقت اس کے لیے ایمان بالغیب اور ایمان بالشہود میں کوئی فرق باقی نہ رہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔