قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یُؤْتِی الْحِکْمَةَ مَنْ یَّشَاۗءُ ۚ وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا ۭوَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ (البقرة: 269) یعنی وہ جس کو چاہتا ہے حکمت دے دیتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بڑی دولت مل گئی- اور نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں-قرآن کی اس آیت کے مطابق انسان کے لیے سب سے بڑی چیز حکمت (wisdom) ہے- حکمت کے بغیر انسان ایک حیوان کی مانند ہے- یہ حکمت ہی ہے جو انسان کو حیوان سے برتر درجہ عطا کرتی ہے-
حکمت کے ذریعہ انسان، ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا جانتا ہے- حکمت کے ذریعہ یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ فیس ویلو (face value) سے آگے جاکر چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے- انسان کی تمام ترقیوں کا راز منصوبہ بندی (planning) میں ہے، اور درست منصوبہ بندی حکمت کے بغیر نہیں ہوسکتی-
کسی انسان کی زندگی میں پہلے ذہنی ارتقا (intellectual development) آتا ہے- اس کے بعد اس کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا ہوتی ہے، جس کو حکمت (wisdom)کہا جاتا ہے- وہ اس قابل ہوجاتاہے کہ حدیث کے الفاظ میں، چیزوں کو ویسے ہی دیکھے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں (اللہم ارنا الأشیاء کما ہی)-
حکمت آدمی کےاندر وہ صفت پیدا کرتی ہے جس کوحقیقت پسندانہ نقطہ نظر (realistic approach) کہا جاتا ہے- اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی سوچ ختم ہوجاتی ہے- وہ ایک متواضع انسان (modest man) بن جاتا ہے- اس کے اندر صبر (patience)کی صفت پیدا ہوجاتی ہے- وہ تشدد کے مقابلہ میں امن (peace) کی اہمیت کو شعوری طورپر جان لیتاہے- یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو اعلیٰ انسان بناتی ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔