قرآن کی 29 سورتوں میں کچھ حروف آئے ہیں، جن کو حروف مقطعات کہاجاتا ہے- قَطّعَ کے معنی ہیں: ٹکڑے ٹکڑے کرنا (to cut, to separate, to divide) - یہ حروف مقطعات دراصل عربی زبان کے حروف تہجی (alphabets) ہیں-
حروف مقطعات کا مطلب یہ ہے کہ قرآن انسانی زبان میںہے نہ کہ ملاٴ اعلیٰ کی زبان میں- وہ علامتی طورپر بتاتے ہیں کہ قرآن اپنی زبان کے اعتبار سے ایک انسانی زبان (26:195) میں اتارا گیا ہے- قرآن پر اسی طرح تدبر کرو، جس طرح تم کسی انسانی زبان کے کلام میںتدبر کرتے ہو- مگر تفسیر بالرائے کے انتہا پسندانہ تصور کی بنا پر لوگوں نے قرآنی آیات پر کھلا تدبر نہیں کیا- اس بنا پر وہ قرآن کے عمیق معانی تک نہ پہنچ سکے- انھوں نے قرآن کی زبان کو پراسرار سمجھ لیا- اس ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن ان کے لیے ایک مقدس کتابِ برکت بن کر رہ گیا- صحیح یہ ہے کہ قرآن میں کھلا تدبر کیا جائے- البتہ یہ تدبر لازمی طورپر متقیانہ تدبر ہونا چاہئے-
مثال کے طورپر سورہ النحل کی پانچ آیتوں ، 4 تا 8، کو لیجئے، ان آیتوں میں پہلے انسان کی تخلیق کا ذکر ہے، اس کے بعد اگلی آیتوں میں کچھ قدرتی سواریوں کا ذکر ہے- آخر میں غیر معلوم تخلیق کی طرف اشارہ کیاگیا ہے- اگر آپ ان آیتوں کو صرف مقدس آیات کے طورپر لیں تو آپ پر اُن کے گہرے معانی نہیں کھلیں گے- اس کے برعکس، اگر آپ اس کو انسانی زبان کا ایک کلام سمجھ کر تدبر کریں تو آپ پر ایسے معانی کھلیں گے، جو آپ کے لیے تعلق باللہ کا اعلیٰ تجربہ بن جائیں-غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ان آیتوں میں اللہ کی تین رحمتوں کا ذکر ہے- پہلے اللہ کی اِس رحمت کا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا، اُس کے بعد چند علامتی مثالوں کے ذریعہ اللہ کی اِس رحمت کا کہ اس نے انسان کے لیے اس دنیا میں مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) رکھ دیا، آخر میں یخلق ما لا تعلمون کے الفاظ میں اللہ کی اُس رحمت کی طرف اشارہ ہے، جس کو صنعتی تہذیب (industrial civilization) کہاجاتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.