اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تواس وقت اللہ اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا، اس کا ایک حصہ یہ تھا: قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاۗءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْن (2:30) یعنی فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں- اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں- اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے-
اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے زمین پر آباد کیا- اس وقت فرشتوں کے اندر یہ شبہہ پیدا ہوا کہ جب انسان کو آزادی حاصل ہوگی تو اس کو آزادی کے غلط استعمال کی بھی آزادی ہوگی،اور جب ایسا ہوگا تو اس زمین میں فساد اور خون ریزی جیسے واقعات پیش آئیں گے، جو بظاہر کائنات کے مجموعی نقشہ کے خلاف ہوگا- اللہ نے جو جواب دیا اس سے تخلیق کی حکمت معلوم ہوتی ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کی نظر مجموعہ انسانی پر تھی، مگر اللہ کی نظر افراد انسانی پر-
اس جواب کا مطلب یہ تھاکہ اللہ کا تخلیقی منصوبہ باعتبار مجموعہ نہیں ہے، بلکہ باعتبار افراد ہے- مجموعہ کے اعتبار سے بلا شبہہ ایسا ہوگا کہ انسانوں کے اندر فساد جیسے واقعات پیش آئیں گے- لیکن اسی مجموعہ کے اندر ایسے افراد بھی پیدا ہوں گے، جو آزادی کے باوجود خود اپنے فیصلہ سے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کریں، اور یہی افراد اصل مطلوب خداوندی ہیں-
فساد اور خون ریزی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ بظاہر منفی واقعات ہیں، لیکن یہ منفی واقعات لوگوں کے ذہن کو جگائیں گے، وہ لوگوں کے اندر تفکیری عمل (intellectual process) جاری کریں گے- وہ لوگوں کو موقع دیں گے کہ وہ اپنے ذہنی امکانات کو بروئے کار لائیں اور اپنے اندر اس اعلیٰ شخصیت کی تعمیر کریںجس کو قرآن میں مزکیّٰ شخصیت (purified personality) کہا گیاہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔