Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala January 2015
Al-Risala January 2015

تاریخ کا قانون

Urdu · 1 min read

انسانی تاریخ کے بارے میں خدا وند عالم کا ایک قانون ہے- اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ ۭ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ۚ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (3:140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو مقابل قوم کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے، اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہـتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت میں اس صورت حال کا ذکر ہے کہ فتح وشکست یا غلبہ اور مغلوبیت کے معاملہ کے حالات کبھی یکساں نہیں ہوتے- کبھی ایک قوم کو غلبہ ملتاہے اور کبھی دوسری قوم کو- یہ اتفاقی بات نہیں ہے- یہ خالق کے انتظام کا معاملہ ہے- انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، خالق انسانی تاریخ کا اس طرح نظم کررہا ہے:

Managing history while maintaining human freedom

اصل یہ ہےکہ دوسری چیزوں کی طرح غلبہ بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے- چنانچہ کبھی ایک گروہ کو غلبہ دے کر اس کا امتحان لیا جاتا ہے، اور کبھی دوسرے گروہ کو- غلبہ کے معاملہ میں کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہوسکتی-

اگر کسی ایک گروہ کو مستقل طورپر غلبہ دے دیا جائے تو اس کے اندر جمود (stagnation) پیدا ہوجائے گا- اس طرح انسانی زندگی میں ترقی کا عمل (process of development) رک جائے گا- اس لیے خود خالق کی طرف سے ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں جو قیادت کو بدلتے رہتے ہیں- انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملہ کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اس کو قبول کرے- وہ غلبہ کو بھی امتحان سمجھے اور مغلوبیت کو بھی امتحان-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content