قرآن کی سورہ الرعد کی ایک آیت یہ ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ ۭ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ( 13:28) یعنی وہ لوگ جو ایمان لائےاور جن کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں- سنو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے- قرآن کی اس آیت میں اطمینان قلب سے مراد ذہنی سکون (peace of mind) ہے- انسان جب ذہنی سکون سے محروم ہوتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتاہے، اور وہ ہے خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) پر راضی نہ ہونا- انسان جب خدا کے تخلیقی نقشہ پر راضی ہوجائے تو اسی کا نام ذہنی سکون ہے، اور جب خدا کے تخلیقی نقشہ پر راضی نہ ہو تو اس سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو ذہنی سکون سے محرومی کہاجاتا ہے-
اصل یہ ہے کہ انسان ایک آزاد مخلوق ہے- اس کے اندر ذاتی سوچ (self-thinking) کی صلاحیت پائی جاتی ہے- وہ چاہتا ہے کہ دنیا اس کی سوچ سے مطابقت کرے- وہ اپنی خواہش کے مطابق ایک دنیا بنائے، اور اس کے اندر وہ زندگی گزارے-مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا- اس لیے وہ ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوجاتاہے- انسان کے سوا جو دنیا ہے، اس میں ہر جگہ امن (peace) پایا جاتاہے- اس کا سبب یہ ہے کہ بقیہ دنیا مکمل طورپر خالق کے آگے سرینڈر کئے ہوئے ہے- انسان اپنی آزادی کی بنا پر خالق کے آگے سرینڈر کرنا نہیں چاہتا، یہی غیر مطابقت وہ چیز ہے جو انسان کو اطمینانِ قلب سے محروم کردیتی ہے-
اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ انسان اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنائے کہ وہ خدائی تخلیق کی حکمت کو سمجھ سکے- اس کا ذاتی شعور خدا کے برتر شعور سے ہم آہنگ ہوجائے- جو آدمی ذہنی ارتقا (intellectual development)کی اس سطح تک پہنچ جائے، وہ کائنات کی اس حقیقت (reality) کو شعوری طورپر دریافت کرلے گا اور پھر وہ بھی اسی طرح خالق کے آگے سرینڈر کردے گا جس طرح بقیہ کائنات خالق کے آگے سرینڈر کئے ہوئے ہے- یہی وہ روش ہے جس کے نتیجہ کا نام اطمینان قلب یا ذہنی سکون ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔