قرآن کی سورہ الفرقان کی ایک آیت یہ ہے: وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا (25:30) یعنی اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو ایک چھوڑی ہوئی کتاب بنادیا-
قیامت میں ہر پیغمبر اپنی امت کے بارے میں شہادت دے گا- مذکورہ آیت میں اُس شہادت کا ذکر ہے، جو پیغمبر اسلام اپنی امت کی بعد کی حالت کے بارے میں قیامت میں دیں گے- آپ قیامت میں بتائیں گے کہ میں نے اپنی امت کو قرآن پر قائم کیا تھا- لیکن بعد کے زمانے میں میری امت نے قرآن کو ایک چھوڑی ہوئی کتاب (discarded book) بنا دیا- ایسا اس لئے ہوگا تاکہ امت کے بگاڑ کا الزام پیغمبر پر نہ آئے- یہ کوئی انوکھی بات نہیں - یہ وہی بات ہے، جو ہر امت کے ساتھ پیش آئی، اور امتِ محمدی کے ساتھ بھی اس کے دور زوال میں پیش آئے گی-یہ قیامت کا ایک معاملہ ہے، اس کو پیشگی طورپر یہاں ذکر کیا گیا تاکہ لوگ متنبہ ہوں، اور اگر مجموعہ نہیں تو کم ازکم افراد اس انجام سے اپنے کو بچالیں-بعد کے زمانے میں امت محمدی کا عین یہی حال ہوا- رسول اللہ نےامت کے تین ادوار کو قرون مشہود لہا بالخیر کہا تھا، یعنی دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعی- اس کے بعد دھیرے دھیرے امت کےاندر فقہ کا ڈیولپمنٹ ہوا- اب امت محمدی جس دین پر کھڑی ہوئی ہے، وہ عملاً قرآن کا دین نہیں ہے بلکہ فقہ کا دین ہے- امت نے قرآن کے دین کو چھوڑ کر فقہ کا دین اختیار کرلیا ہے-
مثلاً قرآن کا مطالعہ کیجئے تو اس میں عبادت خشوع اور تقوی کی چیز نظر آئے گی، یعنی روح (spirit) کی چیز- لیکن بعد کو وضع ہونے والی فقہ میں عبادت مکمل طورپر ایک مبنی بر فارم عمل (form based practice)بن گئی- قرآن کے مطابق ساری دنیا دارالانسان تھی، لیکن فقہ میں دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیاگیا— دار الکفر، دارالحرب- قرآن میں جہاد ،جہاد بالقرآن (25:52) کا نام ہے، مگر فقہ نے جہاد کو جہاد بالسیف کے ہم معنی بنا دیا-
یہی معاملہ پورے فقہی نظام کا ہے- قرآن میں تفکر اور تدبر اور تعقل کو اہم ترین درجہ دیاگیا ہے، لیکن فقہ میں اس مضمون کا کوئی باب موجود نہیں- قرآن کے اعتبار سے معرفت اور دعوت دین کا ستون ہے، مگر فقہ میں معرفت اور دعوت کے ابواب حذف ہیں- فقہ میںاتفاق رائے سے یہ مسئلہ وضع کیاگیا کہ شاتم رسول کو بطور حد قتل کردیا جائے، مگر قرآن میں سرے سے اس مسئلہ کا کوئی ذکر نہیں- فقہ میں یہ قانونی دفع شامل کی گئی کہ ارتداد کرنے والے کو قتل کردیا جائے، مگر قرآن میں کوئی ایسا حکم سرے سے موجود نہیں، وغیرہ-
یہ فقہ رسول اللہ کے تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد عباسی دور میں ڈیولپ ہوئی- اس فقہ کے واضعین کو امام اور مجتہد کہاجانے لگا- اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان، یہ سمجھا جانے لگا کہ فقہا نے قرآن کے احکام کو فقہ میں تفصیل کے ساتھ مدون کردیا ہے- اب امت کو اپنا دین فقہ سے اخذ کرنا ہے- اس طرح بعد کو تیار ہونے والی فقہ، دین کا ماخذ بن گئی، اور قرآن عملاً برکت اور تلاوت کی کتاب بن گیا-
یہی وہ صورت حال ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اس طرح بیان کیاگیاہے کہ قیامت میں جب تمام پیغمبر اپنی اپنی امتوں کے بارے میں یہ بتائیں گے کہ انھوںنے اپنی امت کو وہی دین دیا تھا جو اللہ نے ان پر نازل کیا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں امت نے دین کا ایک خود ساختہ ورژن (version)تیار کرلیا، اور دین کے نام پر اس پر قائم ہوگئے- یہی معاملہ خود پیغمبر اسلام کے ساتھ پیش آئے گا- حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے اپنی امت کے بارے میں فرمایا: لتتبعن سنن من کان قبلکم (صحیح البخاری: 7320)- یہ ایک پیشگی خبر تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی- امت محمدی نے اپنے زوال کے دور میں وہی کیا، جو پچھلے پیغمبروں کی امتوں نے اپنے زوال کے زمانے میں کیا تھا- البتہ یہاں ایک فرق ہے، وہ یہ کہ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا قرآن پوری طرح محفوظ ہے، آپ کی سنت بھی پوری طرح محفوظ ہے- اس طرح یہ امکان ہمیشہ باقی رہے گا کہ قرآن وسنت کے مطالعہ سے دین محمدی کو دوبارہ دریافت کیاجائے، اور اس کو اصل صورت میں اختیار کیا جائے- قرآن وسنت کا محفوظ ہونا، اس بات کی ضمانت ہے کہ مجموعہ کی سطح پر خواہ بگاڑ آجائے، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ امت میں ایسے افراد موجود رہیں گے، جو اصل دین کو دوبارہ دریافت کریں، اور اس کے کامل پیرو بن جائیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔