قرآن کی کئی آیتوں میںموت کا ذکر ہے- ایک آیت یہ ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(29:57) یعنی ہر انسان کو موت کا مزہ چکھناہے- پھر تم ہماری طرف لوٹائے جاؤگے:
Every soul will taste death and then to Us you shall return.
موت ہر آدمی کے لیے ایک لازمی تجربہ ہے- موت کیا ہے؟ موت، آدمی اور اس کی بنائی ہوئی دنیا کے درمیان کامل انقطاع (total detachment) کردینے والی ہے، ایک ایسا انقطاع جس کے بعد انسان کے لیے اپنی دنیا کی طرف دوبارہ لوٹنا ممکن نہ ہوگا- یہ موت کے واقعہ کا ایک ایسا پہلو ہے جو ہر عورت اور مرد کو ہلا دینے والا ہے- انسان کی اوسط عمر تقریباً ستر سال ہے- ہر آدمی عملاً اپنی عمر کا صرف ایک استعمال کرتا ہے، اور وہ ہے اپنے لیے یہاں ایک دنیا بنانا- مگر موت ایک لمحہ کے اندر آدمی کو اس کی بنائی ہوئی دنیاسے جدا کردیتی ہے-
موت ہر آدمی کے لیے ایک جبری یاد دہانی (compulsory reminder) ہے، اس بات کی یاد دہانی کہ انسان کی منزل (destination) کوئی اور ہے- موجودہ دنیا سے اس کا جبری انخلاء (compulsory eviction)ہونے والا ہے- اس کے بعد وہ اپنے خالق کی طرف لوٹایا جائے گا- وہ جہاں سے آیا تھا وہیں وہ دوبارہ چلا جائے گا-
قرآن اسی حتمی واقعہ (fatal event) کو یاد دلانے والی کتاب ہے، کچھ آیتوں میں براہِ راست طورپر، تو کچھ آیتوں میں بالواسطہ طورپر- قرآن کا پیغام یہ ہے کہ اپنی زندگی کے اس حتمی واقعہ کو بہت زیادہ یاد کرو- یہاں تک کہ تمھاری سوچ موت رخی سوچ بن جائے، نہ کہ حیات رخی سوچ- تم قبل ازموت دور (pre-death period) میں بعد ازموت دور (post-death period) کے لیے تیاری کو اپنا مقصد حیات بنا لو-قرآن سے اسی مسلسل تعلق کو حدیث میں تعاہد کہاگیاہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔