Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala January 2015
Al-Risala January 2015

موت کا واقعہ

Urdu · 1 min read

قرآن کی کئی آیتوں میںموت کا ذکر ہے- ایک آیت یہ ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(29:57) یعنی ہر انسان کو موت کا مزہ چکھناہے- پھر تم ہماری طرف لوٹائے جاؤگے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Every soul will taste death and then to Us you shall return.

موت ہر آدمی کے لیے ایک لازمی تجربہ ہے- موت کیا ہے؟ موت، آدمی اور اس کی بنائی ہوئی دنیا کے درمیان کامل انقطاع (total detachment) کردینے والی ہے، ایک ایسا انقطاع جس کے بعد انسان کے لیے اپنی دنیا کی طرف دوبارہ لوٹنا ممکن نہ ہوگا- یہ موت کے واقعہ کا ایک ایسا پہلو ہے جو ہر عورت اور مرد کو ہلا دینے والا ہے- انسان کی اوسط عمر تقریباً ستر سال ہے- ہر آدمی عملاً اپنی عمر کا صرف ایک استعمال کرتا ہے، اور وہ ہے اپنے لیے یہاں ایک دنیا بنانا- مگر موت ایک لمحہ کے اندر آدمی کو اس کی بنائی ہوئی دنیاسے جدا کردیتی ہے-

موت ہر آدمی کے لیے ایک جبری یاد دہانی (compulsory reminder) ہے، اس بات کی یاد دہانی کہ انسان کی منزل (destination) کوئی اور ہے- موجودہ دنیا سے اس کا جبری انخلاء (compulsory eviction)ہونے والا ہے- اس کے بعد وہ اپنے خالق کی طرف لوٹایا جائے گا- وہ جہاں سے آیا تھا وہیں وہ دوبارہ چلا جائے گا-

قرآن اسی حتمی واقعہ (fatal event) کو یاد دلانے والی کتاب ہے، کچھ آیتوں میں براہِ راست طورپر، تو کچھ آیتوں میں بالواسطہ طورپر- قرآن کا پیغام یہ ہے کہ اپنی زندگی کے اس حتمی واقعہ کو بہت زیادہ یاد کرو- یہاں تک کہ تمھاری سوچ موت رخی سوچ بن جائے، نہ کہ حیات رخی سوچ- تم قبل ازموت دور (pre-death period) میں بعد ازموت دور (post-death period) کے لیے تیاری کو اپنا مقصد حیات بنا لو-قرآن سے اسی مسلسل تعلق کو حدیث میں تعاہد کہاگیاہے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content