قرآن کی سورہ القلم میں پیغمبر سے خطاب کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَإنَّکَ لَعَلٰٓی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ( 68:4) یعنی اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو- قرآن کی اس آیت میں پیغمبر کے حوالے سے تمام انسانوں کو بتایا گیا ہے کہ ہر عورت اور مرد کو چاہئے کہ وہ اس دنیا میں اعلیٰ اخلاق کے ساتھ رہے-
Living with a high level of character
اعلیٰ اخلاق کیاہے- اس سے مراد اعلیٰ انسانی اوصاف ہیں- اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا نشانہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ایک ترقی یافتہ شخصیت (developed personality) کی تعمیر کرے- پیدائشی طورپر انسان کے اندر تمام اعلیٰ اوصاف موجود ہیں- مگر وہ پوٹینشیل (potential)کے روپ میں ہیں- یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اپنے فطری پوٹینشیل کو ایک عملی واقعہ بنائے-
یہ کام اعلیٰ اخلاق کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے- اس دنیا میں انسان کو مسائل کے درمیان رہنا پڑتاہے- انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ان مسائل کو اپنے لیے ایک چیلنج سمجھے- انسان کو اس دنیا میں بار بار منفی تجربات (negative experiences) پیش آتے ہیں- ضرورت ہے کہ انسان اس منفی تجربہ کو مثبت تجربہ بنائے- اس دنیا میںانسان کو طرح طرح کے نقصان اٹھانے پڑتے ہیں، انسان کو چاہئے کہ وہ ان نقصانات کو بھلائے، اور ہر بار نئے حوصلہ کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرے- اس دنیا میں انسان کو وہ نہیں ملتا جس کو وہ چاہتا ہے، ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ (art of adjustment) سیکھے-
انہی اوصاف کا نام اعلیٰ اخلاق (high morality)ہے- یہی اس دنیا میں انسان کے لیے مقرر نقشۂ حیات ہے-آدمی کو چاہئے کہ وہ اس مقرر نقشۂ حیات کی کامل پیروی کرے- یہی اِس دنیا میں کامیابی کا واحد راستہ ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔