قرآن کی سورہ الحدیدکی ایک آیت یہ ہے: لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۚ( 57:25) یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ اتاری کتاب اور ترازو، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں-
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ خالق کے نقشہ کے مطابق انصاف پیروی کرنے کی چیز ہے، نہ کہ نافذ کرنےکی چیز:
Justice is a subject of following rather than a subject of implementation.
اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے مکمل آزادی عطا کی ہے- انسان کوئی کام اسی وقت کرتاہے جب کہ وہ خود اس کو کرنا چاہتا ہو- جس کام کے لیے آدمی کے اندر محرک (incentive) موجود نہ ہو، اس کو قانونی حکم یا سیاسی طاقت کے ذریعہ اس کے درمیان نافذ نہیں کیا جاسکتا-
یہ بلا شبہہ ایک مطلوب چیز ہے کہ لوگ اپنے قول وعمل میں انصاف (justice) کی پیروی کریں- وہی سماج ایک بہتر سماج ہے جس کے افراد کے اندر یہ اسپرٹ زندہ ہو- لیکن یہ اسپرٹ تعلیم وتربیت کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے، نہ کہ سیاسی طاقت کے ذریعہ- اس لیے قرآن کا سارا زور اس پر ہے کہ افراد کے اندر انصاف کا شعور پیدا کیا جائے، افراد کے اندر انصاف پر عمل کرنے کا داعیہ (incentive) پیداکیا جائے-انصاف کو اگر افراد کی تعلیم وتربیت کاموضوع بنایا جائے تو ایسی کوشش ہمیشہ مطلوب نتیجہ تک پہنچے گی- لیکن اگر انصاف کو طاقت کے زور پر نفاذ(implementation) کا موضوع بنایا جائے تو اس کے نتیجہ میں جو چیز وجود میں آئے گی، وہ انصاف نہ ہوگا بلکہ صرف ظلم وفساد ہوگا- اس دنیا میں کوئی چیز صرف اس وقت درست طور پر حاصل کی جاسکتی ہے، جب اس کو خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan)کے مطابق حاصل کرنے کی کوشش کی جائے- کوئی دوسرا طریقہ اس دنیا میں نتیجہ خیز ہونے والا نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔