قرآن میں خالق کے ایک منصوبہ کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ ۭ(41:53)یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خودان کے اندر بھی- یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے-
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں وسیع پیمانےپر خدائی صداقت کی نشانیاں (signs) موجود تھیں، لیکن وہ بالقوہ (potential) حالت میں پائی جاتی تھیں- خدا کو یہ مطلوب تھا کہ اِس بالقوہ کو بالفعل (actual) بنایا جائے- جب ایسا ہوگا تو قرآن کا پیغام سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ پیغام بن جائے گا-
مذکورہ آیت میں اس واقعہ کو اللہ کی طرف منسوب کیاگیا ہے- مگر یہ اسلوب کی بات ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں کچھ ایسے افراد اٹھیں گے جو اس امکان کو واقعہ بنائیں گے، اور اس طرح یہ ہوگاکہ قرآن کی آئیڈیالوجی صرف ایک نظری صداقت نہ رہے گی بلکہ وہ علمی طورپر ایک ثابت شدہ صداقت (established fact) بن جائے گی-
فطرت (nature) کے اندر چھپے ہوئے اس امکان کو واقعہ بنانے کا کام انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مکمل طورپر انجام پاچکا ہے- یہ واقعہ مغرب کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیقات کے ذریعہ انجام دیا ہے- قرآن میں جو چیزیں بطور اشارہ بیان کی گئی تھیں، وہ اب معلوم حقیقت بن چکی ہیں- اب عالمِ اصغر (micro world)اور عالم اکبر (macro world) دونوں کے اندر چھپی ہوئی نشانیاں پوری طرح انسان کے علم میں آچکی ہیں- دور جدید کا یہی واقعہ ہے جس کی پیشگی خبر قرآن میں کی گئی تھی- یہ سائنسی واقعہ ایک تائید ِ دین کا واقعہ ہے- حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے حق میں یہ تائیدی واقعہ زیادہ تر سیکولر اہلِ علم کے ذریعہ انجام پائے گا- (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 3062)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔