انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2) یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون حسن عمل والا ہے:
He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کے بارے میں اس کے خالق کا تخلیقی نقشہ یہ ہے کہ عورت ا ور مرد کو مختلف حالات میں زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے، اور پھر ان افراد کا انتخاب کیا جائے جو زندگی کے مختلف احوال کے درمیان یہ ثابت کرتے ہوںکہ وہ اپنے قول وعمل میں اعلیٰ معیار پر قائم رہنے والے ہیں-
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے بارے میں خالق کا منصوبہ مبنی بر فرد منصوبہ ہے، نہ کہ مبنی بر مجموعہ منصوبہ- اِس نقشہ تخلیق کے مطابق پوری تاریخ سے ایسے افراد منتخب کیے جارہے ہیں، جو ہر آزمائش کے بعد حسن عمل کے معیار پر پورے اتریں- ایسے جو افراد پائے جائیں، ان کو پوری تاریخ سے منتخب کرلیا جائے گا، اور پھر ان منتخب افراد کو جنت کی معیاری دنیا میں بسادیا جائے گا، جہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی گزاریںگے-
خالق کا تخلیقی منصوبہ یہ نہیں ہے کہ دنیا میں معیاری نظام قائم کیا جائے- حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں معیاری نظام (ideal system) کا قائم ہونا ممکن نہیں- یہاں صرف معیاری افراد بن سکتےہیں- یہی معیاری افراد خالق کا اصل مطلوب ہیں-
تاریخ کے خاتمہ پر ان معیاری افراد کو پورے انسانی مجموعہ سے منتخب کرلیا جائے گا- جنت انھیں منتخب افراد کے سماج کا نام ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔