قرآن کی سورہ النحل میں شہد کی مکھی (bee) کی مثال دی گئی ہے کہ وہ کس طرح سفر کرکے آتی ہے، اور پھول سے اس کا رس (nectar)لے کر واپس چلی جاتی ہے-اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ( 16:69) یعنی بے شک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں-
قرآن کی اس آیت میں نشانی سے مراد یہ ہے کہ اس واقعہ میں اہلِ فکرکے لیے سبق ہے- اس مثال میں ایک مادی واقعہ کے ذریعہ ایک غیر مادی سبق (non-material lesson) دیاگیا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوچاہئے کہ وہ شہد کی مکھی کی طرح ہر تجربہ سے ایک حکمت کی بات اخذ کرے-
To extract wisdom from every experience.
جس طرح شہد کی مکھی یہ کرتی ہے کہ وہ آس پاس کی دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کرکے صرف ایک چیز کو دیکھتی ہے، اور وہ پھول کے اندر پایا جانے والا نکٹر کنٹنٹ (nectar content) ہے- اسی طرح دنیا کی تمام مادی چیزوں کے اندر ایک اسپریچول کنٹنٹ (spiritual content) موجود ہوتا ہے -
آدمی کو اتنا زیادہ تیار ذہن (prepared mind) ہونا چاہئے کہ وہ جس چیز کو دیکھے، اس پر جو تجربہ گزرے، ہر چیز سے اس کے سبق والے جزء کو اخذ کرلے- وہ آس پاس کی دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کرکے صرف ایک چیز پر فوکس کرے، اور وہ چیزوں کے اندر سبق کا پہلو ہے- وہ چیزوں کے اندر سے ان کے سبق کے پہلو کو لے، اور اس کے بعد زندگی کے سفر میں آگے بڑھ جائے- جو شخص سبق کے اس پہلو کو لے سکے، وہی دانش مندآدمی ہے، اسی کے اندر اس اعلی شخصیت کی تعمیر ہوگی جس کو دانش مند شخصیت کہاجاتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔