قرآن کی دو آیتوں میں ایک مشترک مفہوم بیان ہوا ہے- ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْ بَعْدِہٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ۭ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (31:27) یعنی اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ،روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی- بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے-
قرآن کی اِس آیت اور دوسری ہم مضمون آیت (18:109) میں جس حقیقت کا بیان ہے وہ کوئی پراسرار خبر نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے، جس کو ’’قلم‘‘ کے ذریعہ پیش آنا ہے، اور وہ ہے کلمات اللہ کو دریافت کرکے ان کو قلم بند کرنا- وہ ظاہرہ جس کو موجودہ دنیا میں جدید تہذیب (modern civilization) کہاجاتا ہے، وہ اسی کلمات اللہ کی انفولڈنگ (unfolding)کا آغاز ہے- کلمات اللہ کی بقیہ انفولڈنگ کا تسلسل جنت میں جاری رہے گا- یہ بلا شبہہ اہل جنت کا سب سے زیادہ لذیذ مشغلہ ہوگا- کلمات اللہ یا آلاء اللہ کی تعداد لامحدود ہے، اس لیے تہذیب کا یہ جنتی فیز(phase) ابد تک جاری رہے گا-
موجودہ دنیوی تہذیب کے مقابلہ میں یہ جنتی تہذیب کادور ہوگا- انسان کی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ تھرلنگ تجربہ (thrilling experience) وہ ہے جس کو دریافت (discovery) کہاجاتا ہے- کلمات اللہ کی دریافت اور ان کو اعلیٰ وسائل کے ذریعہ مرتب کرنا، یہی وہ غیر معمولی عمل ہے جس کو قرآن میں شغل فاکہہ (36:55) کہاگیا ہے، یعنی لذیذ مشغلہ (enjoyable activities) - یہ لذیذ ’’قلمی عمل‘‘ کوئی سادہ عمل نہ ہوگا، وہ جنت کی معیاری دنیا کے انتہائی اعلیٰ وسائل کے ذریعہ انجام پائے گا- جنت کا آئیڈیل ماحول اور جنت کے معیاری وسائل اس کام کو اہلِ جنت کے لیے ناقابلِ قیاس حد تک پر مسرت بنا دیں گے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔