کچھ نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ — زندگی کا نظام آپ کی خواہش پر نہیں چلتا، زندگی کا نظام فطرت کے قانون (law of nature) پر چلتا ہے- زندگی میں ’’میں‘‘ کا حصہ صرف ایک فی صد ہے اور ’’تم‘‘ کا حصہ ننانوے فی صد:
In life, ‘I’ works 1 percent, and ‘You’ works 99 percent.
میں نے کہا کہ جب آپ سماج میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں آپ اکیلے نہیں ہوتے، بلکہ آپ کو بے شمار دوسرے لوگوں کے درمیان کام کرنا ہوتاہے- ہر جگہ یہی تناسب ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک فی صد ہوتے ہیں اور بقیہ لوگ ننانوے فی صد-اگر آپ اجتماعی زندگی کے اِس راز کوجانیں تو آپ کامیاب ہوں گے، اور اگر آپ اِس راز کو نہ جانیں تو آپ کا انجام صرف یہ ہوگاکہ ساری زندگی ٹنشن میں جئیں گے اور ٹنشن میں مرجائیں گے-
میں نے کہا کہ زندگی کی اِس نوعیت کی بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگاکہ زندگی میں کامیابی کا اہم ترین اصول صرف ایک ہے، اور وہ ایڈجسٹمنٹ (adjustment) ہے، یعنی دوسروں سے موافقت کرکے زندگی گزارنا- ایڈجسٹ مینٹ کوئی مقدس عقیدہ نہیں، وہ صرف ایک عملی اصول ہے جس کو پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کہاجاتا ہے-
میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو میری نصیحت ہے کہ آپ اپنی ذاتی زندگی اپنے اختیار کردہ اصول کی بنیاد پر گزارئیے، لیکن جب آپ لوگوں کے درمیان ہوں تو مکمل طورپر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرتےہوئے اپنا کام کیجئے، یعنی اپنی ذات کی نسبت سے بااصول (man of principle) اور دوسروں کی نسبت سے پریکٹکل (practical)-کامیابی کا کوئی رومانٹک فارمولا (romantic formula) نہیں ہے- اِس دنیا میں کامیابی کا صرف ایک اصول ہے، اور وہ ہے — حقائق کی رعایت کرنا، اپنے منصوبے کو دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے بنانا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔