← Al-Risala January 2014Al-Risala January 2014
اسلام اکیسویں صدی میں
Urdu · 13 min read
اکیسویں صدی غالباً تہذیبی ارتقا کا نقطۂ انتہا (culmination) ہے- انسانی تہذیب مختلف مراحل سے گزرتےہوئے اب غالباً اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے- بظاہر حالات اب تہذیب کے سفر کا کوئی مزید مرحلہ باقی نہیں-
پیغمبرانہ مشن میں ارتقا (evolution) کا کوئی تصور نہیں- پیغمبرانہ مشن اپنی آئڈیالوجی کے اعتبار سے، ہمیشہ ایک ہی تھا اور آخر تک ایک ہی رہے گا، البتہ دعوتی طریقِ کار کے اعتبار سے، وہ ایک ارتقا پذیر واقعہ ہے- نئے حالات ہمیشہ نئے مواقع پیدا کرتے ہیں اور داعی کا کام یہ ہے کہ وہ اِن نئے مواقع کو دریافت کرے اور اُن کو بھر پور طور پر دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال کرے-
اسلام کی تکمیل کے دو پہلو
اسلام کی تکمیل کے دو پہلو ہیں — ایک، وہ جس کو قرآن میں دین کی تکمیل (5:3) کہاگیا ہے- قرآن کی مذکورہ آیت میں ’’تکمیل‘‘ سے مراد احکامِ دین کی فہرست کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اُس سے یہ مرادہے کہ کوئی ارتقائی ترتیب ہے اور 10 ہجری میں یہ ارتقائی ترتیب مکمل ہوگئی- اِس سے مراد صرف آیاتِ قرآنی کے نزول کی تکمیل ہے- اِس سے مراد عملاً وہی چیز ہے جس کو قرآن کی دوسری سورہ میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تکمیل کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق دین کی تکمیل سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دعوت کی اشاعت اور توسیع سے ہے- اِس دوسرے پہلو کا ذکر قرآن میں اشارةً آیا ہے- یہ اشارہ قرآن کی اِس آیت میں موجود ہے: قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَکْبَرُ شَہَادَةً ۭ قُلِ اللّٰہُ ڐ شَہِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ ۣوَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْۢ بَلَغَ (6:19)یعنی پوچھو کہ سب سے بڑا گواہ کون ہے- کہو، اللہ- وہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے- اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ میں تم کو اس سے خبردار کردوں اور وہ بھی جن کو یہ (قرآن) پہنچے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اِس قرآن کے ذریعے سے اپنے معاصرین کو آگاہ کرے اور بعد کے زمانے میں پیغمبر کے ماننے والے اگلی نسلوں کو ہردور میں اُس سے آگاہ کرتے رہیں- دعوت کایہ عمل مسلسل طور پر قیامت تک جاری رہے گا-دعوت الی اللہ کی اِس عالمی تکمیل کا ذکر ایک حدیثِ رسول (لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام)میں زیادہ واضح طورپر آیا ہے- - دعوت الی اللہ کی عالمی اشاعت کے لیے عالمی ذرائع مواصلات درکار تھے، جو کہ ساتویں صدی عیسوی میںقابلِ حصول نہ تھے- اِس لیے دعوت الی اللہ کی تکمیل کو مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی حیثیت سے بطور پیشین گوئی (prediction) بیان کیا گیا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دورِ آخر کے دُعاة
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اِن الفاظ میں آئی ہے: عبادلیسوا بأنبیاء ولا شہداء یغبطہم النبیون والشہداء لمقعدہم وقربہم من اللہ یوم القیامة (مسند احمد: 5/341 ) یعنی اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ شہید، مگر قیامت کے دن انبیااور شہدا بھی اُن پررشک کریں گے، اللہ سے اُن کے قرب کی بناپر-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیثِ رسول میں غبطة (envy) کا لفظ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے، یعنی اس کا مقصد مذکورہ افراد کی پراسرار فضیلت بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل تحیر خیز پسندیدگی (wondrous appreciation) کے معنی میں ہے، یعنی وہ لوگ اگر چہ پیغمبرکے امتی ہوں گے، لیکن پیغمبر کی ہدایت کا اتباع کرتےہوئے اُن کے ذریعے کچھ ایسے کام انجام پائیں گے جو پچھلی پوری تاریخِ نبوت میں انجام نہیں پایا تھا-
یہ معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں، غور کرکے اس کو سمجھا جاسکتا ہے- اصل یہ ہے کہ دینِ خداوندی میں جو چیز مطلوب ہیں، وہ بہ تمام وکمال وجود میں آچکی ہیں — وحی الہی کے ذریعے آئی ہوئی ہدایت کا پوری طرح محفوظ ہوجانا، پیغمبر کی صورت میں انسان کی زندگی کا ایک رول ماڈل (role model) تیار ہوجانا، دینِ خداوندی کی تاریخ کا ایک مستند ریکارڈ وجود میں آجانا، مذہبی جبر کا ہمیشہ کے لیے ختم ہوجانا، دورِ بادشاہت میں ہر چیز پر جو شخصی کنٹرول قائم تھا، اس کا ختم ہو کر دورِ جمہوریت آجانا، جب کہ انسانی سرگرمیوں کے تمام مواقع پوری طرح کھل گیے، وغیرہ-پیغمبرانہ مشن کے تحت یہ تمام چیزیں مطلوب تھیں جو کہ مکمل طورپر حاصل ہوگئیں-
مگر ایک مطلوب ایسا تھا جو پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کی تاریخ کے دوران پوری طرح حاصل نہیں ہواتھا، اور وہ ہے دعوتِ خداوندی کی عالمی اشاعت- قرآن میں کہا گیاہے کہ اللہ نے یہ کتاب اِس لیے بھیجی ہے، تاکہ وہ تمام اہلِ عالم تک پہنچے اور تمام لوگوں کے لیے آگاہی کا ذریعہ بنے (25:1)- مگر جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرانہ تاریخ کے دور میں یہ عالمی مطلوب پوری طرح واقعہ نہ بن سکا- اِس کا فطری سبب یہ تھاکہ دین کی عالمی اشاعت کے لیے عالمی مواصلات کی ضرورت ہے، اور عالمی مواصلات کے یہ ذرائع پچھلے زمانے میں موجود ہی نہ تھے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس پہلو سے غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مذکورہ حدیثِ رسول میں جن خوش قسمت لوگوں کا ذکر ہے، وہ سچے اہلِ ایمان کی وہ جماعت ہے جو دورِ مواصلات میں دینِ خداوندی کے اِس دعوتی نشانے کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچائے گی کہ اُس سے روئے زمین پر بسنے والے تمام مرد اور عورت باخبر ہوجائیں- قیامت میں کوئی فرد یا گروہ ایسا نہ رہے کہ جو جائز طورپر یہ کہہ سکے کہ: إنا کنا عن ہذا غافلین (7:172)- تاریخ انسانی کے دورِ آخر میں اللہ کی توفیق سے جو اہلِ ایمان اِس دعوتی نشانے کو پورا کریں گے، وہی غالباً وہ لوگ ہیں جن کا ذکر مذکورہ حدیثِ رسول میں کیا گیا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وہ گروہ جس کو آخرت میں قربِ خداوندی کی نسبت سے اتنا بڑا درجہ ملے گا کہ انبیا اور شہدا بھی اُن پر رشک کریں گے، ان کی وہ صفتِ خاص کیا ہوگی جو اُن کو قربت کے اِس مقام تک پہنچائے گی- اِس صفت کا ذکر مذکورہ حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں آیا ہے: المتحابون فی(اللہ کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے)-اِس حدیث رسول میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کی ذات سے محبت کرنے والے، بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے آپس میں محبت کرنے والے- گویا اِس کا مطلب یہ ہے کہ خالص اللہ کے کاز (cause) کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے- اس معاملے کو مزید واضح کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جو — اللہ کے مشن کی خاطر صرف اللہ کے لیے باہم مجتمع ہوجائیں، جن کی ٹیم اسپرٹ اتنی بڑھی ہوئی ہوکہ ٹیم کا ہر فرد اُن کے لیے ایک محبوب ساتھی بن جائے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دعوت کا عالمی نشانہ صرف ٹیم ورک کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے اور کسی مادی انٹرسٹ کے بغیر ٹیم ورک ایک بے حد مشکل کام ہے- اِس کا سبب یہ ہے کہ ٹیم ورک کا مطلب اجتماعی ورک ہے اور اجتماعی زندگی میں لازماً شکایت اور اختلاف کی صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں- ایسی حالت میں صرف اعلی درجے کی محبت الہی یا تعلق باللہ ہی آدمی کو مشن سے وابستہ رکھ سکتا ہے-
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں ایک جنگ پیش آئی جس کو تاریخ میں جنگ یرموک (13 ہجری) کہاجاتا ہے- اِس جنگ میں اہلِ ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی- اِس جنگ میں خالد بن الولید سپہ سالار تھے- جنگ کے آخری مرحلے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق نے کسی وجہ سے خالد بن الولید کو سپہ سالاری کے منصب سے ہٹا دیا اور ان کو عام سپاہی کا درجہ دے دیا- فوج کے کچھ لوگ خالد بن الولید سے ملے اور اِس واقعے پر اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا- خالد بن الولید نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: إنی لا أقاتل فی سبیل عمر، ولکن أقاتل فی سبیل ربّ عمر (یعنی میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا، بلکہ میں عمر کے رب کی راہ میں جنگ کرتاہوں) -
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عالمی دعوتی مشن بہت بڑا دعوتی مشن ہے-اِس قسم کا مشن صرف ایسے لوگوں کے ذریعے کامیابی کے ساتھ انجام پاسکتا ہے جو پورے معنی میں ٹیم اسپرٹ کے ساتھ اکھٹا ہوئے ہوں- دعوتی مشن ایک ایسا مشن ہے جس میں کسی بھی قسم کا مادی یا ذاتی انٹرسٹ شامل نہیں- دعوتی ٹیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد کے اندر مادی انٹرسٹ کا کوئی اعلی بدل موجود ہو- یہ بدل صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کے ساتھ غیر متزلزل محبت- اللہ سے یہی گہرا تعلق اس بات کا ضامن ہے کہ ٹیم کے افراد بنیانِ مرصوص (61:4) کی طرح باہم جڑے رہیں- کوئی بھی شکایت اُن کی ٹیم اسپرٹ میں خلل ڈالنے والی نہ ہو-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے کی ایک مثبت مثال وہ ہے جو خالد بن الولید کے حوالے سے اوپر بیان کی گئی ہے- اِس کی مزید وضاحت کے لیے ایک متقابل مثال یہاں درج کی جاتی ہے- یہ مثال سعد بن عبادہ الانصاری کی ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کو خلیفہ منتخب کیا گیا- سعد بن عبادہ انصاری کو اِس پر اختلاف ہوا- وہ مدینے کے بڑے سرداروں میں سے تھے- ان کی شکایت ایک سیاسی شکایت تھی- یہ شکایت اتنی بڑھی کہ انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت پر بیعت نہیں کی- انھوں نے کبھی اپنی رائے سے رجوع نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ اصحابِ رسول کی جماعت سے الگ ہو کر شام چلے گئے اور وہیں 14 ہجری میں ان کا انتقال ہوگیا-
ٹیم ورک کے اندر لازمی طورپر آپس میں شکایت اور اختلاف پیدا ہوتا ہے- ایسی حالت میں ٹیم ورک کی کامیابی کی شرط صرف یہ ہے کہ ٹیم کے افراد کے اندر یہ ناقابلِ شکست عزم پایا جاتا ہو کہ وہ کسی بھی عذر کو عذر نہیں بنائیں گے، وہ اللہ کی خاطر ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے ساتھ جڑے رہیں گے- اللہ کے کاز کے لیے آپس میں محبت کرنے والے شکایت کا کوئی منفی اثر نہیں لیں گے- اِس کے برعکس، جن لوگوں کے اندر یہ صفت نہ ہو، وہ شکایت سے بددل ہو کر ٹیم سے دور ہوجائیں گے-
دین ِ خداوندی کے دو تقاضے
اسلام کا اصل خارجی نشانہ دعوت الی اللہ ہے- اہلِ اسلام کا یہی ابدی مشن ہے کہ وہ پُرامن طورپر اللہ کے دین کا پیغام ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتے رہیں- اِس دعوتی مشن کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے — تائیدی انفراسٹرکچر (supporting infrastructure) اور توجیہی لٹریچر (explanatory literature) -
تائیدی انفراسٹرکچر
قدیم زمانہ بادشاہت کا زمانہ تھا- قدیم زمانے میں صرف ایک چیز تھی جس سے تائیدی انفراسٹرکچر کا فائدہ حاصل ہوتا تھا، اور وہ تھا پولٹکل انفراسٹرکچر، یعنی سیاسی اقتدار کی سرپرستی حاصل ہونا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو انبیا آئے، اُن کو سیاسی اقتدار کی سرپرستی حاصل نہ تھی، اس لیے اُن کے زمانے میں دعوتِ خداوندی کو استحکام کا درجہ بھی نہ مل سکا- پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے اللہ تعالی نے تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس کے نتیجے میں خود اہلِ اسلام کا سیاسی اقتدار قائم ہوگیا اور اِس طرح دعوت الی اللہ کے کام کے لیے سیاسی اقتدار کی سطح پر وہ تائیدی انفراسٹرکچر قائم ہوا جو کہ دعوتی مشن کے لیے مطلوب تھا-
لیکن اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، سیاسی اقتدار کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہوسکتا، اِس لیے فطری طورپر ایسا ہونا تھا کہ یہ سیاسی سرپرستی ابدی طور پر قائم نہ رہے- اِس لیے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا- اِس انقلاب کو جمہوری انقلاب (democratic revolution) کہاجاتا ہے- قانونِ فطرت کے مطابق، جمہوری انقلاب ایک تاریخی عمل کے تحت وجود میں آیا- اِس عمل کا نقطہ انتہا انقلاب فرانس ہے-
جمہوری انقلاب محدود معنوں میں صرف ایک سیاسی ڈھانچے کی تبدیلی کے ہم معنی نہ تھا، بلکہ اپنے اثرات کے اعتبار سے، وہ ایک مکمل انقلاب (total revolution) تھا- اِس کے نتیجے میں آخر کار تاریخ میں ایک نیا دور وجود میں آیا- اِس دور میں تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ زندگی کے تمام مواقع ہر انسان کے لیے یکساں طورپر کھل گئے- فرد کی آزادی کو خیر اعلی کا درجہ حاصل ہوگیا، ہر انسان کا یہ غیر مشروط حق تسلیم کرلیا گیا کہ وہ پر امن رہتے ہوئے جو چاہے کرے-
انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جمہوریت (democracy)ایک مسلمہ عالمی اصول (universal norm) بن گئی- دعوت الی اللہ کے مشن کے لیے دورِ جمہوریت بہت زیادہ با معنی تھا- اِس کا مطلب یہ تھا کہ دعوتی مشن کے لیے جو تائیدی انفراسٹرکچر درکار ہے، اس کے لیے اب مسلم اقتدار کی ضرورت نہیں- اب خود عالمی نظام زیادہ بہتر طورپر وہ تائیدی انفراسٹرکچر فراہم کررہاہے جو دعوت الی اللہ کے عالمی مشن کے لیے مطلوب ہے-
توجیہی لٹریچر
دعوت الی اللہ کے مشن کی اصل نظریاتی بنیاد صرف قرآن اور سنت ہے- قرآن اور سنت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اِس مشن کی نظریاتی بنیاد بن سکے- لیکن اِس کے ساتھ ایک اور چیز ہے جو علمی اعتبار سے اس کی لازمی ضرورت ہے- یہ قرآن اور سنت کی بنیاد پر تیار کیا جانے والا توجیہی لٹریچر ہے-
عباسی دور میں مسلم علما نے جو لٹریچر تیار کیا، وہ اِس معاملے کی پہلی مثال ہے- یہ لٹریچر اُس دور کے فقہا اور علما نے تیار کیا تھا- جلدہی اِس لٹریچر کو مستند پیٹرن (authentic pattern) کی حیثیت حاصل ہوگئی- بعد کے زمانے میں جو اسلامی کتابیں لکھی گئیں، وہ اِس پیٹرن پر لکھی گئیں- یہ لٹریچر اُس زمانے میں تیار کیا گیا جب کہ زمین کے بڑے حصے میں مسلمانوں کی سلطنتیں قائم تھیں- اِس ماحول میں ایسا ہوا کہ یہ لٹریچر براہِ راست یا بالواسطہ طورپر سیاسی پیٹرن میں ڈھل گیا-
مثال کے طور پر اِسی دور میں وہ کتابیں لکھی گئیں جن میں یہ کہاگیا تھاکہ شتمِ رسول کی سزا قتل ہے- تمام فقہا نے یہ قانون وضع کردیا کہ شاتم کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یُقتل حدا)- اِسی طرح ارتداد (apostasy) کی سزا قتل قرار پائی- اِن قوانین کا ماخذ قرآن وسنت میں موجود نہ تھا، وہ صرف دورِ سلطنت کے سیاسی ماحول کی پیداوار تھے- اِسی طرح اِس دور میں بہت سے مسائل اور قوانین وضع کیے گئے جو صرف وقت کے سیاسی ماحول کی پیداوار تھے- مثلاً دار الاسلام اور دار الکفرکی اصطلاحیں،ذمی اور غیر ذمی کے قوانین، وغیرہ-
اسلامی دعوت کی نظریاتی بنیاد (قرآن وسنت) ہمیشہ ایک ہی رہے گی، لیکن اس کاتوجیہی لٹریچر ہمیشہ ایک نہیں رہ سکتا- کیوں کہ توجیہی لٹریچر کا تعلق ابدی حقائق سے نہیں ہے، بلکہ حالاتِ زمانہ سے ہے- قدیم زمانے میں جو توجیہی لٹریچر تیار ہوا تھا، وہ قدیم سیاسی حالات کے اعتبار سے تھا- اب اس کی حیثیت کلاسکل لٹریچر (classical literature) کی ہوچکی ہے- آج کے حالات کے اعتبار سے اس کا ریلونس (relevance) تقریباً ختم ہوچکا ہے- اب نئے حالات کے اعتبار سے نیا توجیہی لٹریچر درکار ہے جو جدید ذہن کو ایڈریس کرسکے-
آج اسلام کے دعوتی مشن کے لیے ایسا لٹریچر درکار ہے جو روحِ عصر (spirit of the age) کے مطابق ہو- صرف ایسا لٹریچر ہی جدید ذہن کو ایڈریس کرسکتا ہے اور لوگوں کو یہ یقین عطا کرسکتا ہے کہ اسلام میں آج کے انسان کے لیے بھی اُسی طرح قابلِ اعتماد رہنمائی موجود ہے جس طرح قدیم انسان نے اس میں اپنے لیے قابلِ اعتماد رہنمائی پائی تھی-
موجودہ زمانے میںاسلام کے لیے جو نیا توجیہی لٹریچر درکار ہے، اس کی چند خصوصیات ہیں- اول یہ کہ وہ اپنے دلائل کے اعتبار سے مبنی بر عقل (reason based) ہو- قدیم روایتی طریقہ آج کے لیے کار آمد نہیں- دوسرے یہ کہ اس کا اپروچ یونی ورسل اپروچ (universal approach) ہو- قدیم انداز کا گروہی اپروچ (sectarian approach) آج کے انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے- تیسری بات یہ کہ اِس لٹریچر کو مکمل طورپر پیس فل (peaceful) لٹریچر ہونا چاہئے- کوئی ایسا لٹریچر جس کے اندر براہِ راست یا بالواسطہ طورپر تشدد (violence) کا فکر موجود ہو، وہ آج کے انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا— آخرت میں قابلِ رشک درجہ اُس گروہ کو ملے گا جو اِن تقاضوں کے مطابق، اکیسویں صدی میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دے- (13 جولائی 2013)
unverifiedAttribution could not be verified automatically