Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala January 2014
Al-Risala January 2014

@@@سوال

Urdu · 6 min read

ماہ نامہ الرسالہ، نومبر 2013کے شمارے میں آپ نے ’’تعاہد کیاہے‘‘ کے عنوان کے تحت ایک بات یہ لکھی ہے کہ: ’’تم قرآن میں نئے نئے معانی تلاش کرتے رہو‘‘- براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں- (ڈاکٹر محمد رفیق بہاؔر، سری نگر، کشمیر)

آپ کے اِس سوال کا جواب خود قرآن میں موجود ہے- مثلاً آپ قرآن کی سورہ ص کی اِس آیت کا مطالعہ فرمائیں: کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُواْ آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُوْلُواْ ٱلأَلْبَابِ(38:39)-اِس آیتسے معلوم ہوا کہ قرآن کی آیتوںکا ایک مطلب وہ ہے جو الفاظ کے ترجمے سے معلوم ہوتاہے- قرآن کا دوسرا مطلب وہ ہے جو عقلی غوروفکر کے ذریعے معلوم ہوتا ہے- گویا قرآن کے فہم کی دو سطحیں ہیں — ایک، لفظی اور دوسرے، معنوی- یہی بات حدیث میں اِن الفاظ میں بتائی گئی ہے: لکل آیة منہا ظہر وبطن (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 75 ) یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک لفظی مفہوم ہے اور اس کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو اُس کے بین السطو رمیں پایا جاتا ہے، جس کو صرف تدبر کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے- اِسی حقیقت کو حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: لا تنقضی عجائبہ (المستدرک للحاکم،رقم الحدیث:2040)یعنی قرآن کے عجائب (wonders) کبھی ختم نہ ہوں گے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثلاً قرآن میں پانی کے بارے یہ آیت آئی ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً مُّبٰرَکًا (50:9)- آپ نے قرآن کی اِس آیت کو پڑھا تو اس کا پہلا مفہوم آپ کے ذہن میں یہ آیا کہ پانی اللہ کا ایک بابرکت عطیہ ہے، پھر آپ نے سوچا کہ پانی کیسے آپ کو ملا- اِس طرح آپ نے بارش کے نظام کو دریافت کیا، پھر مزید آپ نے یہ سوچا کہ پانی جب سمندر میں تھا تو وہ ’نمکین‘ تھا، پھر بارش کے ذریعے آپ کو ’میٹھا‘پانی کیسے ملا- اِس طرح آپ اِس واقعے تک پہنچے کہ فطرت میں ازالۂ نمک (desalination) کا آفاقی نظام قائم ہے- اِس طرح جب آپ سوچیں گے تو آپ کے ذہن میں ایک چین ری ایکشن (chain reaction)کا عمل (process) جاری ہوجائے گا اور آپ ایک کے بعد ایک ، نیے معانی کو دریافت کرتے رہیں گے- یہی وہ حقیقت ہے کو جس کو الرسالہ کے مذکورہ مضمون میں بیان کیا گیا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ نے کشمیر کی نسبت سے کافی لکھا ہے- یہ کشمیریوں کے ساتھ آپ کی خیر خواہی کی دلیل ہے- آپ نے ’’کشمیر میں امن‘‘ (Peace in Kashmir)اور ’’صبح کشمیر‘‘ (Dawn Over Kashmir) نام کی کتابوں کو تحریر کرکے کشمیریوں کو صحیح رہنمائی دی ہے- ایک اگر historical document ہے تو دوسری ideological document ہے- دونوں تحریروں میں تاریخ اور مذہب کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے-میں کشمیر کے gun culture میں جوان ہوا، لہذا میں کشمیر کے صوفی کلچر سے عملاً بے خبر ہوں- البتہ میرے والد بتاتے ہیں کہ’’میں جب اپنے بچپن کو یاد کرتاہوں تو کشمیر کی موجودہ صورت حال مجھے ایک خواب نظر آتی ہے- جب گاؤں میں ہمارا کوئی مہمان آتا تھا تو اس کی تواضع کے لئے ہم مرغ ذبح کرتے تھے، لیکن مرغ ذبح کرنے کے لیے ہمیں مشکل ہی سے کوئی آدمی ملتا تھا- اکثر لوگوں کے پاس چاقو تک نہ ہوتا تھا- لوگ جانور کو مارنے سے کتراتے تھے، کسی انسان کو تکلیف دینے کوتو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘-ایک روز میں نے کیڑے مار دواچھڑکی - صبح کو میرے والد نے مجھے بلایا- مرے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا — — یہ کیا قتل ہے-‘‘میں اِس رحم دلی کے مزاج کو یاد کرکے آج روتا ہوں- یہ ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ یہی کشمیریوں کی فطرت تھی جس کو عرف عام میں ہم ’’کشمیریت‘‘ سے یاد کرتے ہیں-جہاں تک میں نے آپ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے، کشمیر کی نسبت سے آپ کا مشن کشمیر کو دوبارہ اپنے فطری حالت پر لاناہے‘ تاکہ ہم دنیا کو امن وسلامتی (اسلام) کا پیغام دے سکیں- برائے مہربانی مزید رہنمائی سے نوازیں- (انجینئر سید عابد حسین، بڈگام، کشمیر)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

کشمیر کا مسئلہ ہو یا اِس قسم کے دوسرے مسائل، ہر ایک کا سبب صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگ محدود طورپر صرف اُس مسئلے کو لے کر سوچتے ہیں جس سے وہ عملاً دوچار ہیں- وہ اِن مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے- یہ اوپر اٹھ کر سوچنا وہی چیز ہے جس کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کہاگیا ہے- خلقِ عظیم کا لفظی مطلب ہے برتر کردار، لیکن برتر کردار برتر آئڈیالوجی سے پیدا ہوتا ہے، برتر آئڈیالوجی نہیں تو برتر کردار بھی نہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مومن کے لیے برتر آئڈیالوجی صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی دوسری چیزوں کو لے کر سوچنے کے بجائے اللہ رب العالمین کو لے کر سوچے-اس کے اندر خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) آجائے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کےاندر خدا رخی سوچ نہیں، وہ صرف اپنے معاشی اور سیاسی مسائل کو جانتے ہیں- ان کی موجودہ سوچ اِسی کی بنیاد پر بنی ہے- یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ کی نصرت سے محروم ہوگئے ہیں- ان کے پاس صرف شکایت کی زبان ہے، ان کے پاس شکر کی زبان نہیں-

موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو بڑے مسئلے ہیں — کشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ- غیر معمولی قربانیوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے عملاً لاینحل مسئلے بنے ہوئے ہیں- اِن دونوں مسائل کا حل اگر موجودہ قسم کی کوششوں سے ممکن ہوتا تو اب تک وہ ہوچکا ہوتا- لیکن 60 سال سے زیادہ مدت کی غیر معمولی کوششوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے کسی بھی درجے میں حل نہیں ہوئے- ایسی حالت میں کشمیریوں اور عربوں دونوں کو چاہئے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں- اِس کے سوا ہر دوسری تدبیر صرف نقصان میں اضافہ کرے گی، وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی نہیں-

کشمیر کے مسلمان اب تک دو چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھے — آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر- مگر یہ دونوں نشانے قومی سوچ پر بنے ہیں، نہ کہ خدائی سوچ پر- صحیح یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان اپنی سوچ پر نظر ثانی کریں اور یہ کہیں کہ ہمارا نشانہ نہ آزاد کشمیر ہے اور نہ پاکستانی کشمیر، ہمارا نشانہ صرف خدائی کشمیر (divine Kashmir) ہے- خدائی کشمیر کو اپنا نشانہ بنانے کا مطلب ہے— خدا والی سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنانا-

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی تو آپ نے وہاں یہ اشو نہیں کھڑا کیا کہ مکہ سیاسی طورپر کس کے قبضے میں ہو- اِس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ صورتِ موجودہ (statusquo) کو تسلیم کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام شروع کردیا- کشمیریوں کو بھی اِسی نہج پر کام کرنا ہے- کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ جموں وکشمیر میں جو سیاسی اسٹیٹس کو (political statusquo) بن گیا ہے، وہ اُس سے ٹکراؤ نہ کریں، بلکہ اس کو تسلیم کرتے ہوئے وہ اپنی ساری کوشش پُرامن دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی وہ سنت ہے جو عربوں کو فلسطین میں اختیار کرنا ہے- فلسطین میں عربوں کے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی متشددانہ تحریک کو مکمل طورپر ختم کردیں- وہ یک طرفہ طورپر ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ دیں اور اپنی ساری طاقت پرامن دعوت میں لگا دیں- فلسطین میں دعوت الی اللہ کے عظیم مواقع ہیں، اسرائیل کے درمیان بھی اور سیاحوں (tourists) کے درمیان بھی جو دنیا بھر سے بکثرت روزانہ فلسطین کے علاقے میں آتے ہیں-

دعوت الی اللہ کا کام اہلِ ایمان کا اصل مشن ہے- اِسی مشن کی ادائیگی پر اُن کو اللہ کی نصرتیں حاصل ہوں گی- موجودہ زمانے کے مسلمان جن چیزوں کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں، اُس مسئلے کا حل اللہ کی نصرت کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ محض ذاتی کوشش کے ذریعے، اور اللہ کی نصرت صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو دعوت الی اللہ کا کام کریں- یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے: وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ (22:40)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content